Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
74 - 576
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے انہیں عذاب دے گا اور انہیں ذلیل ورسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد فرمائے گا اور ایمان والوں کے دلوں کو ٹھنڈا کردے گا۔
{ قٰتِلُوۡہُمْ:تم ان سے لڑو۔} ارشاد فرمایا کہ تم ان سے لڑو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا وعدہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں سے قتل کے ذریعے انہیں عذاب دے گا اور انہیں  قید میں مبتلا کر کے  ذلیل ورسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد فرمائے گا اور ان پر غلبہ عطا فرمائے گا اور ایمان والوں کے دلوں کو ٹھنڈا کردے گا۔ (1)
	 تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سارے وعدے پورے فرمائے اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی دی ہوئی ساری خبریں سچ ثابت ہوئیں اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کا ثبوت واضح تر ہوگیا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار سے اپنا بدلہ لینا جس سے مسلمانوں کے دلوں کا رنج نکلے جائز ہے بلکہ بعض اوقات بدلہ لینا ضروری ہے مگر ظلم و زیادتی نہ ہو۔
وَیُذْہِبْ غَیۡظَ قُلُوۡبِہِمْ ؕ وَیَتُوۡبُ اللہُ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۵﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور ان کے دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا اور اللہ جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کے دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا اور اللہ جس پر چاہتا ہے اپنی رحمت سے رجوع فرماتا ہے اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے۔
{ وَیَتُوۡبُ اللہُ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ:اور اللہ جس پر چاہتا ہے اپنی رحمت سے رجوع فرماتا ہے۔} اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ بعض اہلِ مکہ کفر سے باز آکر تائب ہوں گے ۔ یہ خبربھی ایسی ہی واقع ہوگئی چنانچہ حضرت ابوسفیان ،عکرمہ بن ابوجہل اور سہیل بن عمرو  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ایمان سے مشرف ہوئے۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۴۲۸۔
2…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۴۲۸۔