گستاخی کے مُرتَکِب ہوں تو ان کا معاہدہ ختم اور ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ (1)
(2)… کفار کے ساتھ جنگ کرنے سے مسلمانوں کی غرض ان کے ذاتی مفادات نہیں بلکہ انہیں کفرو بداعمالی سے روکنا ہے اور یہی اسلامی جہاد کا سب سے اہم مقصد ہے۔
اَلَا تُقٰتِلُوۡنَ قَوْمًا نَّکَثُوۡۤا اَیۡمٰنَہُمْ وَہَمُّوۡا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوۡلِ وَہُمۡ بَدَءُوۡکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ اَتَخْشَوْنَہُمْ ۚ فَاللہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخْشَوْہُ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا اس قوم سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کے نکالنے کا ارادہ کیا حالانکہ انہیں کی طرف سے پہل ہوئی ہے کیا ان سے ڈرتے ہو تو اللہاس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم اس قوم سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کونکالنے کا ارادہ کیا حالانکہ پہلی مرتبہ انہوں نے ہی تم سے ابتداء کی تھی تو کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ پس اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
{ اَلَا تُقٰتِلُوۡنَ قَوْمًا:کیا تم اس قوم سے نہیں لڑو گے۔} ارشاد فرمایا کہ کیا تم اس قوم سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور صلح حدیبیہ کا عہد توڑا اور مسلمانوں کے حلیف خزاعہ کے مقابل بنی بکر کی مدد کی اور دارُالنَّدوَہ میں مشورہ کرکے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو مکہ مکرمہ سے نکالنے کا ارادہ کیا حالانکہ پہلی مرتبہ انہوں نے ہی تم سے لڑائی کی ابتداء کی تھی تو کیا تم ان سے ڈرتے ہو اور ا س بنا پر ان سے جنگ ترک کرتے ہو؟ پس اگر تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور وعید پر ایمان رکھتے ہو تواللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ تم کافروں سے جنگ ترک کرنے کے معاملے میں اس سے ڈرو۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احکام القرآن للجصاص، سورۃ التوبۃ، ۳/۱۱۰، ملخصاً۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۳، ۲/۲۲۰۔