Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
54 - 576
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جو ایمان لائے اورمہاجر بنے اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں ، ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔
{ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوۡنَ حَقًّا:وہی سچے ایمان والے ہیں۔} اس سیپہلی آیت میں مہاجرین و انصار کے باہمی تَعَلُّقات اور ان میں سے ہر ایک کادوسرے کے مُعین ومددگار ہونے کا بیان تھا اور اس آیت میں ان دونوں کے ایمان کی تصدیق اور ان کے رحمتِ الٰہی کے مستحق ہونے کا ذکر ہے۔ اس آیت سے مہاجرین اور انصار کی عظمت و شان بیان کرنا مقصود ہے کہ مہاجرین نے اسلا م کی خاطر اپنے آبائی وطن کو چھوڑ دیا، اپنے عزیز، رشتہ داروں سے جدائی گوارا کی، مال و دولت، مکانات ا ور باغات کو خاطر میں نہ لائے۔ اسی طرح انصار نے بھی مہاجرین کو مدینہ منورہ میں اس طرح ٹھہرایا کہ اپنے گھر اور مال و مَتاع میں برابر کا شریک کر لیا ، یہ سچے اور کامل مومن ہیں ، ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور جنت میں عزت کی روزی ہے۔ (1)
 انصار کے فضائل:
	اس آیت میں مہاجرین کے ساتھ ساتھ انصار کی بھی عظمت و شان بیان کی گئی ، اسی طرح ایک اور مقام پر انصار کی عظمت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’ وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَ الْاِیۡمٰنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ یُحِبُّوۡنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمْ وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ‘‘ (2) 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جنہوں نے پہلے اس شہر کواور ایمان کو  ٹھکانا بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دیا گیا اور وہ (دوسروں کو) اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود (مال کی) حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔
	اور حضرت براء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ انصار 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مدارک، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۴، ص۴۲۳، تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۴، ۵/۵۱۹، ملتقطاً.
2…حشر:۹.