Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
452 - 576
ترجمۂکنزالایمان: بولے اے ہود تم کوئی دلیل لے کر ہمارے پاس نہ آئے اور ہم خالی تمہارے کہے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے کے نہیں نہ تمہاری بات پر یقین لائیں۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: انہوں نے کہا: اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر نہیں آئے اور ہم صرف تمہارے کہنے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی تمہاری بات پر یقین کرنے والے ہیں۔ 
{ قَالُوۡا یٰہُوۡدُ:انہوں نے کہا: اے ہود!} حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے مذاق اڑاتے ہوئے اور عناد کے طور پر یہ جواب دیا کہ اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر نہیں آئیجو تمہارے دعوے کی صحت پر دلالت کرتی ۔ یہ بات اُنہوں نے بالکل غلط اور جھوٹ کہی تھی کیونکہ حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں جو معجزات دکھائے تھے وہ ان سب سے مکر گئے تھے۔ (1)
{ وَمَا نَحْنُ بِتَارِکِیۡۤ اٰلِہَتِنَا:اور ہم اپنے خداؤں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔} کفار اِس بات کا اِعتراف کرتے تھے کہ نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے جبکہ اس کے برعکس بت کوئی نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتے،اس کے باوجود انہوں نے حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے یہ کہاکہ ہم آپ کی بات کی وجہ سے اپنے بتوں کی عبادت کرنا نہیں چھوڑیں گے بلکہ ہماری عقل اور ہمارا دل حکم دے گا تو چھوڑیں گے۔ان کی یہ بات اورمزید ان کا یہ کہنا’’ اور نہ ہی تمہاری بات پر یقین کریں گے‘‘ بھی ان کے کفر پر اِصرار،اپنے آباء و اَجداد کی اندھی تقلید اور حضرت ہودعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب پر دلالت کرتا ہے۔ (2)
اِنۡ نَّقُوۡلُ اِلَّا اعْتَرٰىکَ بَعْضُ اٰلِہَتِنَا بِسُوۡٓءٍؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اُشْہِدُ اللہَ وَاشْہَدُوۡۤا اَنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾ مِنۡ دُوۡنِہٖ فَکِیۡدُوۡنِیۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴿۵۵﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…بیضاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۵۳، ۳/۲۳۹-۲۴۰۔
2…تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۵۳، ۶/۳۶۴۔