Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
445 - 576
اپنے بیٹے کے اظہار ِاسلام کی وجہ سے اسے مسلمان سمجھتے تھے اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ظاہر پر ہی حکم لگاتے تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بیٹے کے بارے میں کلا م ہے، اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بیٹے کے عمل اچھے نہ تھے وہ شرک کرتا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلاتا تھا۔ دوسرا قول راجح ہے۔ (1)
{ فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَـیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ:پس تم مجھ سے اس بات کا سوال نہ کرو جس کا تجھے علم نہیں۔} یعنی جس بات کے درست یا غلط ہونے کا آپ کو علم نہیں ا س بات کا مجھ سے سوال نہ کرو، میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ تم ان لوگوں میں سے نہ ہونا جونہیں جانتے ۔ علامہ صاوی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ کے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کئے گئے اس کلام میں نرمی و شفقت کا اِظہار ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ارشاد فرمایا ’’اے پیارے نوح! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، آپ کا مقام بہت بلند ہے، اس لئے آپ کی شان کے لائق یہ بات ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام صرف اسی کی نجات کا مطالبہ اور شفاعت فرمائیں جس کے بارے میں نجات کی امید ہے، وہ لوگ جن کے بارے میں آپ نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں شفاعت قبول کی جائے گی یا نہیں تو ان کی نجات کے بارے میں آپ کا سوال کرنا آپ کے مقام و مرتبہ کے لائق نہیں۔ (2)
قَالَ رَبِّ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِکَ اَنْ اَسْـَٔلَکَ مَا لَـیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلْمٌ ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیۡ وَ تَرْحَمْنِیۡۤ اَکُنۡ مِّنَ الْخٰسِرِیۡنَ ﴿۴۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: عرض کی اے میرے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور رحم نہ کرے تو میں زیاں کار ہوجاؤں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: عرض کی: اے میرے رب ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳/۹۱۵، تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۴۶، ۶/۳۵۷، ملتقطاً۔
2…صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳/۹۱۶۔