’’ مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّپر گمان ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ (1)
وَنَادٰی نُوۡحٌ رَّبَّہٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِیۡ مِنْ اَہۡلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَ اَنۡتَ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیۡنَ ﴿۴۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور نوح نے اپنے رب کو پکارا عرض کی اے میرے رب میرا بیٹا بھی تو میرا گھر والا ہے اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑھ کر حکم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور نوح نے اپنے رب کو پکارا تو عرض کی: اے میرے رب! میرا بیٹا بھی تو میرے گھر والوں میں سے ہے اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔
{ وَنَادٰی نُوۡحٌ رَّبَّہٗ:اور نوح نے اپنے رب کو پکارا۔} جب حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے بیٹے کنعان کے درمیان لہر حائل ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس کی نجات طلب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی’’ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، میرا بیٹا بھی تو میرے گھر والوں میں سے ہے اور تو نے مجھ سے میری اور میرے گھر والوں کی نجات کا وعدہ فرمایا ہے۔ بے شک تیرا وعدہ سچا ہے اور اس وعدے کے پورا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ بے شک توسب حاکموں سے بڑھ کر جاننے والا اور سب سے زیادہ عدل فرمانے والا ہے۔ (2)
شیخ ابومنصور ماتریدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بیٹا کنعان منافق تھا اور آپ کے سامنے اپنے آپ کو مؤمن ظاہر کرتا تھا اگر وہ اپنا کفر ظاہر کردیتا تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ سے اس کی نجات کی دعا نہ کرتے۔ (3)
قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صٰلِحٍ ۫٭ۖ فَلَا تَسْـَٔلْنِ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام من کلّ شہر۔۔۔ الخ، ص۵۸۹، الحدیث: ۱۹۶(۱۱۶۲)۔
2…روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۴۵، ۴/۱۳۸۔
3…تاویلات اہل السنہ، ہود، تحت الآیۃ: ۴۶، ۲/۵۲۹۔