Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
442 - 576
وَ قِیۡلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیۡ مَآءَکِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیۡ وَغِیۡضَ الْمَآءُ وَقُضِیَ الۡاَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوۡدِیِّ وَقِیۡلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۴﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور حکم فرمایا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوا اور کشتی کوہ ِ جودی پر ٹھہری اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور حکم فرمایا گیا کہ اے زمین! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان! تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوگیا اور وہ کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہرگئی اور فرما دیا گیا: ظالموں کے لئے دوری ہے۔
{ وَ قِیۡلَ:اور حکم فرمایا گیا۔} جب طوفان اپنی اِنتہا پر پہنچ گیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کو غرق کر دیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین کو حکم فرمایاگیا کہ اے زمین!ا پنا پانی نگل جا اور آسمان کو حکم فرمایا گیا کہ اے آسمان! تھم جا۔ پھر پانی خشک کردیا گیا اور حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی ہلاکت کا کام پورا ہوگیا۔ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کشتی  چھ مہینے زمین میں گھوم کر جودی پہاڑ پر ٹھہرگئی ، یہ پہاڑ موصل یا شام کی حدود میں واقع ہے، حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کشتی میں دسویں رجب کو بیٹھے اور دسویں محرم کو کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کے شکر کا روزہ رکھا اور اپنے تمام ساتھیوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (1)
عاشورہ کے روزے کی فضیلت:
	 دس محرم یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھنا سنت ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :رسول کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے عاشورا کو روزہ خود رکھا اور ا س کے رکھنے کاحکم فرمایا۔ (2) اور ا س کی فضیلت کے بارے میں حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۴۴، ۲/۳۵۳-۳۵۴۔
2…مسلم، کتاب الصیام، باب ایّ یوم یصام فی عاشوراء، ص۵۷۳، الحدیث: ۱۳۳(۱۱۳۴)۔