نوٹ:اس واقعے کی مزید تفصیل سورۂ قمر کی آیت نمبر 11تا 15 میں ہے۔
{ وَنَادٰی نُوۡحُۨ ابْنَہٗ:اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا ۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بیٹا کنعان ا س کشتی سے باہر ایک کنارے پر تھا، حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اسے پکارا: اے میرے بیٹے! تو ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا اور سواری سے محروم رہنے والے کافروں کے ساتھ نہ ہو۔ علماء فرماتے ہیں کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بیٹا کنعان منافق تھا،اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا اور اپنے کفر کو چھپاتا تھا ،جب طوفان آیا تو اس نے اپنا باطنی کفر ظاہر کر دیا۔ (1)
قَالَ سَاٰوِیۡۤ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیۡ مِنَ الْمَآءِ ؕ قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللہِ اِلَّا مَن رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَیۡنَہُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیۡنَ ﴿۴۳﴾ ترجمۂکنزالایمان:بولا اب میں کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا کہا آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے اور ان کے بیچ میں موج آڑے آئی تو وہ ڈوبتوں میں رہ گیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیٹے نے کہا: میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ (نوح نے) فرمایا: آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر (وہی بچے گا) جس پر وہ رحم فرمادے اور ان کے درمیان میں لہرحائل ہوگئی تو وہ بھی غرق کئے جانے والوں میں سے ہوگیا۔
{ قَالَ سَاٰوِیۡۤ اِلٰی جَبَلٍ:اس نے کہا:میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پکار سن کر کنعان نے کشتی میں سوار ہونے کی بجائے یہ جواب دیا کہ میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس سے فرمایا’’آج کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں لیکن جس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ رحم فرمادے تو وہ ڈوبنے سے بچ سکتا ہے۔پھر حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے بیٹے کنعان کے درمیان ایک لہرحائل ہوگئی تو کنعان بھی غرق کئے جانے والوں میں سے ہوگیا۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین مع صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۴۲، ۳/۹۱۴۔
2…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۴۳، ۲/۳۵۳