میں تم پر بڑا عذاب آتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر اللہ کی طرف سے پہلے سے ایک حکم لکھا ہو انہ ہوتا، تو اے مسلمانو! تم نے کافروں سے جو مال لیا ہے اس کے بدلے تمہیں بڑا عذاب پکڑلیتا۔
{ لَوْلَاکِتٰبٌ مِّنَ اللہِ سَبَقَ:اگراللہ کی طرف سے پہلے سے ایک لکھی ہوئی بات نہ ہوتی۔} اس آیت میں ’’کِتٰبٌ مِّنَ اللہِ سَبَقَ‘‘کے بارے میں مفسرین نے مختلف اقوال ذکر کئے ہیں ، ان میں سے 3درج ذیل ہیں۔
(1) …اس لکھے ہوئے سے مراد یہ ہے کہ اِجتہاد پرعمل کرنے والے سے مُواخَذہ نہ فرمائے گا اور یہاں صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے اجتہاد ہی کیا تھا اور ان کی فکر میں یہی بات آئی تھی کہ کافروں کو زندہ چھوڑ دینے میں ان کے اسلام لانے کی امید ہے اور فدیہ لینے میں دین کو تَقْوِیَت ہوتی ہے اور اس پر نظر نہیں کی گئی کہ قتل میں اسلام کا غلبہ اور کفار کی تَہدید ہے۔ یہاں ایک مسئلہ یاد رکھیں کہ سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا اس دینی معاملہ میں صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی رائے دریافت فرمانا مشروعیتِ اجتہاد کی دلیل ہے۔
(2)…یا ’’کِتٰبٌ مِّنَ اللہِ سَبَقَ ‘‘ سے وہ مراد ہے جو اس نے لوحِ محفوظ میں لکھا کہ اہلِ بدر پر عذاب نہ کیا جائے گا۔
(3)…یا اس سے وہ مراد ہے جو اس نے لوحِ محفوظ میں لکھا کہ اللہتعالیٰ تمہارے لئے غنیمتیں حلال فرمائے گا۔
یاد رہے کہ آیت کے اگلے حصے ’’ لَمَسَّکُمْ فِیۡمَاۤ اَخَذْتُمْ‘‘ میں ان صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے خطاب ہے جو فدیہ لینے پر راضی تھے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاس خطاب میں داخل نہیں۔ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی تو نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ اگر آسمان سے عذاب نازل ہوتا تو حضرت عمر بن خطاب اور حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بچ جاتے کیونکہ ان کی رائے عالی فدیہ لینے کے خلاف تھی۔ (1)
شانِ فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:
اس شانِ نزول سے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی عظمت و شان ظاہر ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مقام ایسا بلند ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی رائے کے مطابق قرآنِ مجید کی آیات نازل
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۸، ص۴۲۱، روح المعانی، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۸، ۵/۳۲۲، ملتقطاً.