Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
438 - 576
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور اُبلنے لگا تو ہم نے فرمایا: ہر جنس میں سے (نر اور مادہ کا) ایک ایک جوڑا اور جن پر ( عذاب کی ) بات پہلے طے ہوچکی ہے ان کے سوا اپنے گھروالوں کو اور اہلِ ایمان کو کشتی میں سوار کرلو اور ان کے ساتھ تھوڑے لوگ ہی ایمان لائے تھے۔
{ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا :یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا ۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کشتی بنانے میں مصروف رہے یہاں تک کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے اور ان کی ہلاکت کا وقت آگیا ،اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اس عذاب کے نازل ہونے کی علامت یہ بیان فرمائی تھی کہ جب تم تنور میں سے پانی جوش مارتا ہوا دیکھو تو جان لینا کہ عذاب نازل ہونے کا وقت آ پہنچا ،چنانچہ جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس علامت کو ملاحظہ فرمایا تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہو گئے۔ (1) بعض مفسرین کے نزدیک اس تنور سے روئے زمین مراد ہے اورایک قول یہ ہے کہ اس سے یہی تنور مراد ہے جس میں روٹی پکائی جاتی ہے ،نیزاس تنور کے بارے میں بھی چند قول ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ وہ تنور پتھر کا تھا اور حضرت حَوّا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کے ترکے میں سے آپ کو پہنچا تھا ۔ وہ تنور شام میں موجود تھا یا ہند میں۔ (2)
{ مِنۡ کُلٍّ زَوْجَیۡنِ اثْنَیۡنِ:ہر جنس میں سے (نر اور مادہ کا) ایک ایک جوڑا۔} جب تنور میں سے پانی نے جوش مارا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تین طرح کی چیزیں کشتی میں سوار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔
(1)…ہر جنس میں سے نر اور مادہ کا ایک ایک جوڑا۔ حضرت حسن  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے ساتھ ان تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کر لیا جو بچے جنتے ہوں یا انڈے دیتے ہوں ، البتہ جو مٹی سے پیدا ہوتے ہیں جیسے مچھر وغیرہ ان میں سے کسی کو سوار نہ کیا۔‘‘ جانور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس آتے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دایاں ہاتھ نرپر اور بایاں مادہ پر پڑتا تھا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسوار کرتے جاتے تھے۔ بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ سانپ اور بچھو نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ سوار کر لیں۔ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان سے فرمایا: تمہاری وجہ سے ہم کہیں مصیبت کا شکار نہ ہوجائیں ا س لئے میں تمہیں سوار نہیں کروں گا۔ انہوں نے عرض کی: آپ ہمیں سوار کر لیں ،ہم آپ کو اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ جو آپ کا ذکر کرے گا ہم اسے کوئی نقصان نہ پہنچائیں گے۔‘‘ لہٰذا جسے سانپ اور بچھو سے نقصان 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۴۰، ۶/۳۴۷، ملخصاً۔
2…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۴۰، ۲/۳۵۱-۳۵۲، ملخصاً۔