(اب) مسلمان نہیں ہوگاتو تم اس پر غم نہ کھاؤ جو یہ کررہے ہیں۔
{ وَ اُوۡحِیَ اِلٰی نُوۡحٍ:اور نوح کی طرف وحی بھیجی گئی۔} اس آیت میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو یہ خبر دی گئی ہے کہ ان کی قوم کے جو لوگ کفر پر اَڑے ہوئے ہیں ان کا ایمان قبول کرنا محال ہے لہٰذا ان کے ایمان قبول کرنے کی توقع نہ رکھیں۔ آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی بھیجی کہ آپ کی قوم کے جن لوگوں سے ایمان قبول کرنے کی توقع تھی وہ تو ایمان قبول کر چکے ، ان کے علاوہ جو لوگ اپنے کفر پر ہی قائم ہیں وہ اب کسی صورت ایمان قبول نہیں کریں گے لہٰذا اس طویل مدت کے دوران کفار کی طرف سے آپ کو جس تکذیب، اِستہزاء اور اَذِیَّت کا سامنا ہوا اس پر غم نہ کرو ، ان کفارکے کرتوت ختم ہو گئے اور اب ان سے انتقام لینے کا وقت آگیا ہے۔ (1) ایمان لانے والے حضرات کی تعداد مفسرین کے بیان کے مطابق تقریباً اسی(80) تھی۔
وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا وَلَا تُخٰطِبْنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغْرَقُوۡنَ ﴿۳۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کشتی بنا ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا وہ ضرور ڈوبائے جائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بناؤ اور (اب) ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا۔ بیشک انہیں ضرور غرق کیا جائے گا۔
{ وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا: اور ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بناؤ۔} جب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بتا دیا کہ ان کی قوم میں سے پہلے مسلمان ہوجانے والوں کے علاوہ کوئی اور اب مسلمان نہیں ہوگا تو ا س کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کو عذاب دینے والا ہے اور چونکہ عذاب کئی طریقوں سے آ سکتا تھا ا س لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بتا دیا کہ وہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابوسعود، ہود، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳/۲۹۔