Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
434 - 576
یہ کہتے ہیں کہ جو بات حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ انہوں نے اپنے پاس سے ہی بنا لی ہے۔تواے نوح! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام،تم ان سے فرما دو کہ بالفرض اگر میں نے اپنے پا س سے بنا لی ہے تو مجھے ، میرے گناہ کی سزا ملے گی (لیکن حقیقت یہ ہے کہ) تم نے میرے اوپر جو تہمت لگائی ہے میں تمہارے اس جرم سے بیزار ہوں۔ (1) اس تفسیر کے مطابق اس آیت کا تعلق حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے کے ساتھ ہی ہے ۔
	دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ،کیا کفارِ مکہ یہ کہتے ہیں کہ محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے یہ قرآن خود ہی بنا لیا اور یہ کہہ کر کفاراسے اللہ عَزَّوَجَلَّکا کلام ماننے اور اس کے اَحکام ماننے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے رسول پر بہتان باندھتے ہیں اور اُن کی طرف اِفتراء کی نسبت کرتے ہیں جن کی سچائی روشن دلائل اور مضبوط حجتوں سے ثابت ہو چکی ہے،لہٰذا اب اُن سے فرما دو کہ اگر بالفرض میں نے بنا بھی لیا ہو تو میرا جرم صرف مجھ پر ہے، جس کا وبال ضرور آئے گالیکن بِحَمْدِاللہ میں سچا ہوں تو تم سمجھ لو کہ تمہاری تکذیب کا وبال تم پر پڑے گا اور تم نے میرے اوپر جو تہمت لگائی ہے میں تمہارے اس جرم سے بیزار ہوں۔ (2)
	 تفسیرِ جمل میں ہے کہ اس صورت میں یہ آیت حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قصے کے دوران ا س لئے ذکر کی گئی ہے تاکہ سننے والوں کا نَشاط برقرار رہے۔ (3)
وَ اُوۡحِیَ اِلٰی نُوۡحٍ اَنَّہٗ لَنۡ یُّؤْمِنَ مِنۡ قَوْمِکَ اِلَّا مَنۡ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوۡا یَفْعَلُوۡنَ ﴿۳۶﴾ۚۖ 
ترجمۂکنزالایمان: اور نوح کو وحی ہوئی کہ تمہاری قوم سے مسلمان نہ ہوں گے مگر جتنے ایمان لاچکے تو غم نہ کھا اس پر جو وہ کرتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور نوح کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تمہاری قوم میں سے مسلمان ہوجانے والوں کے علاوہ کوئی اور 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیر ابو سعود، ہود، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳/۲۸-۲۹۔
2…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۳۵، ۲/۳۵۰، مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۴۹۶، ملتقطاً۔
3…جمل، ہود، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳/۴۲۹۔