Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
433 - 576
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر میں تمہاری خیرخواہی کرنا چاہوں تو تب بھی میری نصیحت تمہیں نفع نہیں دے گی اگر اللہ تمہیں گمراہ کرنا چاہتا ہو۔ وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ 
{ اِنْ اَرَدۡتُّ اَنْ اَنۡصَحَ لَکُمْ:اگر میں تمہاری خیرخواہی کرنا چاہوں۔} حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ یّغْوِیَکُمْ‘‘ کا معنی ہے اللہ تمہیں عذاب دینا چاہے ،اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوا کہ جس دن تم پر عذاب نازل ہوا اور تم وہ عذاب دیکھ کر ایمان لائے تو اس دن میری نصیحت تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی کیونکہ عذاب نازل ہوتے وقت کا ایمان قبول نہیں۔ میری نصیحت تمہیں اس وقت فائدہ دے گی جب تم عذاب کا مُشاہدہ کرنے سے پہلے ایمان لے آؤ۔(1) دوسرا معنی مَشِیَّتِ الٰہی کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے جو آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ 
{ ہُوَ رَبُّکُمْ ۟ وَ اِلَیۡہِ تُرْجَعُوۡنَ:وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔} یعنی تمہارا خدا وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہاری پرورش کی۔ وہ تمہاری موت سے پہلے اور موت کے بعد دونوں حالتوں میں تمہاری ذات اور صِفات میں تَصَرُّف کرنے کا پورا پورا اختیار رکھتا ہے اور مرنے کے بعد تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ڈرانے میں انتہائی مفید ہے۔ (2)
اَمْ یَقُوۡلُوۡنَ افْتَرٰىہُ ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیۡتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیۡ وَ اَنَا بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوۡنَ ﴿۳۵﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اُسے اپنے جی سے بنالیا تم فرماؤ اگر میں نے بنالیا ہوگا تو میرا گناہ مجھ پر ہے اور میں تمہارے گناہ سے الگ ہوں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ اس نے خود ہی بنالیا ہے ۔ تم فرماؤ: اگر میں نے بنا (بھی) لیا ہو تو میرا جرم صرف مجھ پر ہے اور میں تمہارے جرم سے بیزار ہوں۔
{ اَمْ یَقُوۡلُوۡنَ:کیا یہ کہتے ہیں۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کے لوگ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۳۴، ۶/۳۴۲۔
2…تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۳۴، ۶/۳۴۳۔