Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
432 - 576
کی اندھی تقلید کرنا، جہالت اور گمراہی پر اِصرار کرنا کفار کا طریقہ ہے۔
	دوسرا اعتراض: حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کفار کو جس عذاب کی وعید سنائی تھی ، انہوں نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اس عذاب کے جلدی نازل ہونے کا مطالبہ کیا اور کہا ’’اگر تم سچے ہو تو اب وہ عذاب لے آؤ جس کی وعیدیں تم ہمیں دیتے رہتے ہو۔ (1)حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف سے کفار کے ان اعتراضات کا جواب اگلی آیت میں مذکور ہے۔
قَالَ اِنَّمَا یَاۡتِیۡکُمۡ بِہِ اللہُ اِنۡ شَآءَ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعْجِزِیۡنَ ﴿۳۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولا وہ تو اللہ تم پر لائے گا اگر چاہے اور تم تھکا نہ سکو گے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:( نوح نے) فرمایا: وہ عذاب تمہارے اوپر اللہ ہی لائے گا اگر وہ چاہے گا اور تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکوگے۔ 
{ قَالَ:فرمایا۔} کفار کے اعتراضات کے جواب میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا’’تم پر عذاب نازل کرنے کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ،وہ جب چاہے گا ا س عذاب کو تم پر نازل کر دے گا اور جب اس نے عذاب نازل کرنے کا ارادہ فرمالیا تو تم اُس عذاب کو روک سکو گے اورنہ اُس سے بچ سکو گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفر یا بد عملی پر عذاب آنا ضروری نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ارادے پر موقوف ہے۔ (2)
وَلَا یَنۡفَعُکُمْ نُصْحِیۡۤ اِنْ اَرَدۡتُّ اَنْ اَنۡصَحَ لَکُمْ اِنۡ کَانَ اللہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یُّغْوِیَکُمْ ؕ ہُوَ رَبُّکُمْ ۟ وَ اِلَیۡہِ تُرْجَعُوۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾ 
ترجمۂکنزالایمان:اور تمہیں میری نصیحت نفع نہ دے گی اگر میں تمہارا بھلا چاہوں جبکہ اللہ تمہاری گمراہی چاہے وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف پھرو گے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۳۲، ۶/۳۴۱۔
2…تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۳۳، ۶/۳۴۱، روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۳۳، ۴/۱۲۰، ملتقطاً۔