Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
431 - 576
ہرگز انہیں دنیا و آخرت میں کوئی بھلائی نہ دے گا۔ نیکی یا بدی اِخلاص یا نفاق  جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ۔ اگر میں اُن کے ظاہری ایمان کو جھٹلا کر اُن کے باطن پر الزام لگائوں اور انہیں نکال دوں تو ضرور میں ظالموں میں سے ہوں گا اوربِحَمْدِاللہ میں ظالموں میں سے ہر گز نہیں ہوں تو ایسا کبھی نہ کروں گا۔ (1) اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو کسی دلیل کے بغیر منافق یا کافر کہنے والا ظالم ہے کہ شریعت کا حکم ظاہر پر ہے۔
 قَالُوۡا یٰنُوۡحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَکْثَرْتَ جِدٰلَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۳۲﴾ 

ترجمۂکنزالایمان: بولے اے نوح تم ہم سے جھگڑے اور بہت ہی جھگڑے تو لے ا ٓ ؤ جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: انہوں نے کہا: اے نوح! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت زیادہ جھگڑا کرلیا ہے تو اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس کی وعیدیں تم ہمیں دیتے رہتے ہو۔ 
{ قَالُوۡا یٰنُوۡحُ:انہوں نے کہا: اے نوح!} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کفار کی طرف سے پیش کئے گئے شُبہات کے جوابات ذکر فرمائے اور کفار نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے جوابات پر دو اعتراض کئے، ان کا ذکر ا س آیت میں ہے۔
	 پہلا اعتراض: کفار نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جوابات کو بکثرت بحث اور جھگڑا کرنے سے تعبیر کیا اور کہا کہ اے نوح! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت ہی زیادہ جھگڑا کرلیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کفارکے ساتھ بہت زیادہ بحث فرمائی تھی اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بحث اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اپنی نبوت اور آخرت کو ثابت کرنے کے لئے تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق کو ثابت کرنے کیلئے دلائل پیش کرنا اور شبہات کا اِزالہ کرنا انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے جبکہ دلائل کے مقابلے میں اپنے آباء و اَجداد 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۳۱، ۲/۳۴۹، مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۴۹۵، ملتقطاً۔