Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
429 - 576
{ وَیٰقَوْمِ:اور اے میری قوم!} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ عقل اور شریعت ا س بات پر متفق ہیں کہ نیک اور متقی مسلمان کی تعظیم کرنا جبکہ فاسق و فاجر اور کافر کی توہین کرنا ضروری ہے اور اس کے برخلاف کرنا یعنی فاسق و فاجر اور کافر کو تعظیم کے طور پر قربت سے نوازنا اور نیک ،متقی، پرہیز گار مسلمانوں کو ان کی توہین کے طور پر اپنے آپ سے دور کر دینا اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جب ان کی قوم کے لوگوں نے غریب مسلمانوں کو اپنے آپ سے دور کرنے کا مطالبہ کیا تو انہیں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ جواب دیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ بفرضِ محال اگر میں شریعت کے حکم کے برخلاف کافر اور فاجر کی تعظیم کر کے اسے اپنی بارگاہ میں قرب سے نوازوں اور متقی مومن کی توہین کر کے اسے اپنی مجلس سے نکال دوں تو یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہو گی اور اس کی وجہ سے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا حق دار ٹھہروں گا، مجھے بتاؤ! پھر اس وقت مجھے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کون بچائے گا؟ تو کیا تم اس بات سے نصیحت حاصل نہیں کرتے کہ ایسا کرنا درست نہیں۔ (1)
وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمْ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللہِ وَلَاۤ اَعْلَمُ الْغَیۡبَ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّیۡ مَلَکٌ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ تَزْدَرِیۡۤ اَعْیُنُکُمْ لَنۡ یُّؤْتِیَہُمُ اللہُ خَیۡرًا ؕ اَللہُ اَعْلَمُ بِمَا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمْ ۖ اِنِّیۡۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جان لیتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور میں انہیں نہیں کہتا جن کو تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں کہ ہرگز انہیں اللہ کوئی بھلائی نہ دے گا اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے ایسا کروں تو ضرور میں ظالموں میں سے ہوں۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں خود ہی غیب جان لیتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور میں ان غریب مسلمانوں کے بارے میں جنہیں تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں یہ نہیں 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۳۰، ۶/۳۳۹-۳۴۰۔