ترجمۂکنزُالعِرفان: فرمایا: اے میری قوم!بھلا بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت عطا فرمائی ہو پھر تم (خود ہی) اسے دیکھنے سے اندھے رہو تو کیا میں تمہیں اس (کوقبول کرنے) پر مجبور کروں حالانکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ ؟
{ قَالَ یٰقَوْمِ:فرمایا: اے میری قوم!}جب حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوجھٹلایا تو آپ نے اپنی قوم سے فرمایا: اے میری قوم! مجھے بتاؤ کہ اگر میں ا پنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں یعنی حق پر ہوں اور مجھے اپنی حقانیت کا قطعی یقین ہو اور اپنی حقانیت کے دلائل بھی میرے پاس موجود ہوں نیز اللہ نے مجھے اپنے پاس سے نبوت عطا کی ہو جبکہ یہی حقیقت تم پر پوشیدہ ہو تو کیا میں تمہیں اپنی نبوت قبول کرنے اورا س پر ایمان لانے پر مجبور کروں حالانکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو اور اس کا انکار کرتے ہو۔ میں تمہیں قبول کروانے کی قدرت نہیں رکھتا بلکہ مجھے تو صرف اس بات کی طاقت ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچا دوں۔ (1)
وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُکُمْ عَلَیۡہِ مَالًا ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللہِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ اِنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡ رَبِّہِمْ وَلٰکِنِّیۡۤ اَرٰىکُمْ قَوْمًا تَجْہَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾ ترجمۂکنزالایمان: اور اے قوم میں تم سے کچھ اس پر مال نہیں مانگتا میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں تم کو نرے جاہل لوگ پا تا ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے قوم! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور نہیں کروں گا بیشک یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں تم لوگوں کو بالکل جاہل قوم سمجھتا ہوں۔
{ وَ یٰقَوْمِ:اور اے قوم!} امام فخر الدین رزای رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’گویا کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا ’’تم میرے ظاہری حالات کی طرف دیکھتے ہو کہ میں مال و دولت نہیں رکھتا جس کی وجہ سے تمہارا یہ گمان ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کا یہ کام اس لئے شروع کیا ہے تاکہ اس پرتم سے مال و دولت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۲۸، ۳/۹۰۹۔