اس لئے فرمایا گیا کہ دردناک عذاب ا س دن نازل ہو گا۔ (1)
حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی عمر:
حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے اور نو سو پچاس سال اپنی قوم کو دعوت فرماتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔ اس کے علاوہ عمر شریف کے متعلق اور بھی قول ہیں۔(2)
فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوْمِہٖ مَا نَرٰىکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰىکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیۡنَ ہُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاۡیِۚ وَ مَا نَرٰی لَکُمْ عَلَیۡنَا مِنۡ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّکُمْ کٰذِبِیۡنَ ﴿۲۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو اس کی قوم کے سردار جو کافر ہوئے تھے بولے ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے سرسری نظر سے اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے بلکہ ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:تو اس کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے : ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی سمجھتے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف ہمارے سب سے کمینے لوگوں نے سرسری نظر دیکھ کر بغیر سوچے سمجھے کرلی ہے اور ہم تمہارے لئے اپنے اوپر کوئی فضیلت نہیں پاتے بلکہ ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔
{ فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوْمِہٖ:تو اس کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے ۔} جب حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی تو انہوں نے تین شُبہات وارد کر کے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر طبری، ہود، تحت الآیۃ: ۲۶، ۷/۲۷، ابو سعود، ہود، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۲۳، تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۲۶، ۶/۳۳۶، ملتقطاً۔
2…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۲۶، ۲/۳۴۸۔