Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
424 - 576
وَالسَّلَاماور ان کی قوم کا واقعہ۔ (4) حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا فرشتوں کے ساتھ واقعہ۔ (5) حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ۔ (6) حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ۔ (7) حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا فرعون کے ساتھ واقعہ ۔ یہ تمام قصے زمانے کی ترتیب کے مطابق بیان فرمائے۔ (1) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا: اے میری قوم ! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرنے اور اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا صریح ڈر سنانے والا ہوں۔ (2)
	یاد رہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ سورۂ یونس میں گزر چکا ہے، اس سورت میں اس واقعے کو فوائد کے پیشِ نظر مزید تفصیلات کے ساتھ دوبارہ بیان فرمایا گیا۔ (3)
	نوٹ: حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے کی بعض تفصیلات ا س سے پہلے سورۂ اَعراف آیت 59تا 64 میں گزر چکی ہیں۔
اَنۡ لَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّا اللہَ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو بیشک میں تم پر ایک مصیبت والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔بیشک میں تم پر ایک دردناک دن کے عذاب کا خوف کرتا ہوں۔
{ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیۡمٍ:بیشک میں تم پر ایک دردناک دن کے عذاب کا خوف کرتا ہوں۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم خالصتاً اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت اوراس کی وحدانیت کا اقرار نہ کرو گے اور ان بتوں سے کنارہ کشی اختیار نہ کرو گے تو مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دردناک دن کا عذاب نہ آ جائے۔ درد ناک دن سے مراد یا تو قیامت کا دن ہے یا طوفان آنے کا دن اور دن کو مجازی طور پر دردناک
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۹۰۸۔
2…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۲۵، ۲/۳۴۸۔
3…تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۲۵، ۶/۳۳۶۔