Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
423 - 576
ترجمۂکنزالایمان: دونوں فریق کا حال ایسا ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھتا اور سنتا کیا ان دونوں کا حال ایک سا ہے تو کیا تم دھیان نہیں کرتے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: دونوں فریقوں کا حال ایسا ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا۔کیا ان دونوں کی حالت برابر ہے؟ تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے؟ 
{ مَثَلُ الْفَرِیۡقَیۡنِ:دونوں فریقوں کا حال ۔} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کافر و مومن دو گروہوں کا ذکر فرمایا اب اس آیت میں ایک مثال بیان فرما کر ان کی مزید وضاحت فرما دی۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دونوں فریقوں یعنی کافر اور مومن کا حال ایسا ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا۔ کافر اس کی مثل ہے جو نہ دیکھے نہ سنے اور یہ ناقص ہے، جبکہ مومن اس کی مثل ہے جو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے اوروہ کامل ہے اور حق و باطل میں امتیاز رکھتا ہے، اس لئے ہر گز ان دونوں کی حالت برابر نہیں۔ (1)
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوْمِہٖۤ ۫ اِنِّیۡ لَکُمْ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۲۵﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (انہوں نے فرمایا) میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں۔ 
{ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوْمِہٖۤ:اور بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔} اللہ تعالیٰ کا اپنی کتاب قرآنِ پاک میں یہ طریقہ ہے کہ جب کفار پر دلائل قائم فرمائے، انہیں عذاب سے ڈرائے اور ان کے لئے مثالیں بیان فرمائے تو اس کے بعد گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ان کی امتوں کے بعض واقعات بھی بیان فرماتا ہے تاکہ یہ کسی طرح ہدایت حاصل کریں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے سات واقعات بیان فرمائے ہیں۔ (1) حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ان کی قوم کا واقعہ۔ (2) حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ۔ (3) حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۲۴، ۶/۳۳۵، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۲۴، ۲/۳۴۷-۳۴۸، ملتقطاً۔