کے وقت ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں اور اس وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ ’’وَاَخْبَتُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمْ‘‘ کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ثواب و عذاب کا جو بھی وعدہ فرمایا ہے اس کی سچائی پر ان کے دل مطمئن ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے اور اس بات سے ڈرتے رہے کہ کہیں ان کے اَعمال میں کوئی نَقص یا کمی نہ رہ گئی ہو۔ جن لوگوں میں یہ تین اَوصاف ہوں تو وہ جنتی ہیں اور وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ (1)
اپنے اَعمال کی فکر کرنے کی ترغیب:
ہمارے اَسلاف کا یہی حال تھا کہ وہ ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے کے باوجود ان میں نقص یا کمی رہ جانے سے ڈرتے تھے بلکہ وہ عظیم المرتبت صحابی جن کے عدل وانصاف اور بہترین حکمرانی پر تاریخِ اسلام کو ناز ہے اور جنہیں دنیا میں ہی مالکِ جنت ،قاسمِ نعمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی زبانِ اَقدس سے جنت کی بشارت مل گئی یعنی سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، وہ بھی اس معاملے میں خوفزدہ رہتے تھے، چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور شہادت کا وقت قریب آیا توایک انصاری نوجوان حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے: اے امیر المؤمنین! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہو کہ اسلام میں آپ کا جو مقام ہے وہ آپ جانتے ہیں ، پھر جب آپ خلیفہ بنائے گئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عدل وانصاف کیا اور اس کے بعد شہادت پائی۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : اے بھتیجے! کاش مجھے برابری پر چھوڑ دیا جائے کہ نہ عذاب ہو نہ ثواب۔ (2)
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے اَعمال کی فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔
مَثَلُ الْفَرِیۡقَیۡنِ کَالۡاَعْمٰی وَالۡاَصَمِّ وَالْبَصِیۡرِ وَالسَّمِیۡعِ ؕ ہَلْ یَسْتَوِیَانِ مَثَلًا ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿٪۲۴﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۲۳، ۶/۳۳۵۔
2…بخاری، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر وعمر رضی اللہ عنہما، ۱/۴۶۹، الحدیث: ۱۳۹۲۔