فرمایا’’ان فتنوں کے واقع ہونے سے پہلے نیک اعمال کر لو جو اندھیری رات کی طرح چھا جائیں گے ایک شخص صبح مومن ہوگا اور شام کو کافر، یا شام کو مومن ہو گا اور صبح کافر اور وہ معمولی سی دنیوی مَنفعت کے بدلے میں اپنا دین بیچ ڈالے گا۔ (1)
حضرت ضحاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کہ ایک شخص نے عرض کی :یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، لوگوں میں سب سے بڑا زاہد کون ہے؟ ارشاد فرمایا ’’وہ شخص سب سے بڑا زاہد ہے جو اپنی قبر کو اور اپنے فنا ہونے کو نہ بھولے، دنیا کی زیب و زینت کو چھوڑ دے،باقی رہنے والی کو فنا ہو جانے والی پر ترجیح دے، اپنے آنے والے دن کو شمار نہ کرے اور خود کو مُردوں میں شمار کرے۔ (2)
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے اور آخرت کی بھلائی اوربہتری کے لئے بھرپور کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمْ ۙ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اپنے رب کی طرف رجوع لائے وہ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے اورانہوں نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا تو یہی لوگ جنتی ہیں ،وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
{ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا:بیشک جو ایمان لائے ۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے دنیوی حالات اور اُخروی خسارے کا ذکر فرمایا، اس کے بعد اس آیت میں اہلِ ایمان کے دنیوی حالات اور اخروی فوائد بیان فرمائے ۔ (3) اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ بے شک وہ لوگ جو ایمان لاتے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں اور عبادت کی ادائیگی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسلم، کتاب الایمان، باب الحث علی المبادرۃ بالاعمال قبل تظاہر الفتن، ص۷۳، الحدیث: ۱۸۶(۱۱۸)۔
2…شعب الایمان، الحادی والسبعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۷/۳۵۵، الحدیث: ۱۰۵۶۵۔
3…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۲۳، ۲/۳۴۷۔