Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
419 - 576
اُولٰٓئِکَ لَمْ یَکُوۡنُوۡا مُعْجِزِیۡنَ فِی الۡاَرْضِ وَمَا کَانَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ۘ یُضٰعَفُ لَہُمُ الْعَذَابُ ؕ مَا کَانُوۡا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوۡا یُبْصِرُوۡنَ ﴿۲۰﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: وہ تھکانے والے نہیں زمین میں اور نہ اللہ سے جدا ان کے کوئی حمایتی انہیں عذاب پر عذاب ہوگا وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہیں اوراللہ کے سوا ان کے کوئی مددگار بھی نہیں ہیں۔ ان کے لئے عذاب کو کئی گنا بڑھا دیا جائے گا۔ وہ نہ تو سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے تھے۔ 
{ اُولٰٓئِکَ لَمْ یَکُوۡنُوۡا مُعْجِزِیۡنَ فِی الۡاَرْضِ:وہ زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہیں۔}  آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر عذاب کرنا چاہے تو وہ زمین میں اللہ عَزَّوَجَلَّکو عاجز نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اُس کے قبضہ اور اُس کی ملک میں ہیں ،نہ اس سے بھاگ سکتے ہیں نہ بچ سکتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کے سوا ان کے کوئی مددگار بھی نہیں ہیں کہ وہ اُن کی مدد کریں اور اُنہیں اس کے عذاب سے بچائیں۔ لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے راستے سے روکنے اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کرنے کی وجہ سے ان کاعذاب کئی گنا بڑھا دیا جائے گا۔  (1)
{ مَا کَانُوۡا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ السَّمْعَ:وہ نہ تو سن سکتے تھے۔} حضرت قتادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ وہ حق سننے سے بہرے ہوگئے تو کوئی بھلائی کی بات سن کر نفع نہیں اُٹھاتے اور نہ وہ آیاتِ قدرت کو دیکھ کر فائدہ اُٹھاتے ہیں۔(2) 
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ وَضَلَّ عَنْہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفْتَرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۲۰، ۲/۳۴۷۔
2…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۲۰، ۲/۳۴۷۔