Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
402 - 576
	اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے بے خوف ہونے سے بچائے اور ہمارے دلوں میں اس کا ڈر پیدا فرمائے ،اٰمین۔
وَلَئِنْ اَذَقْنَا الۡاِنْسٰنَ مِنَّا رَحْمَۃً ثُمَّ نَزَعْنٰہَا مِنْہُ ۚ اِنَّہٗ لَیَـُٔوۡسٌ کَفُوۡرٌ ﴿۹﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر اسے اس سے چھین لیں ضرور وہ بڑا ناامید ناشکرا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر وہ رحمت اس سے چھین لیں توبیشک وہ بڑا مایوس اور ناشکرا (ہوجاتا) ہے۔ 
{ وَلَئِنْ اَذَقْنَا الۡاِنْسٰنَ مِنَّا رَحْمَۃً:اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں۔} ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں ’’ الۡاِنْسٰنَ‘‘ سے مراد مُطلق انسان ہے پھر (آیت نمبر 11میں ) اس سے صبر کرنے والے اور نیک مسلمانوں کا اِستثنا ء فرمایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت میں مذکور ’’ الۡاِنْسٰنَ‘‘ میں مومن اور کافر دونوں داخل ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ’’ الۡاِنْسٰنَ‘‘ سے کافر انسان مراد ہے۔ (1) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ چکھائیں اور صحت، امن، وسعتِ رزق اور دولت عطا کریں پھر یہ سب اس سے چھین لیں اور اسے مَصائب میں مبتلا کردیں تو بیشک وہ  دوبارہ اس نعمت کے پانے سے مایوس ہوجاتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے اپنی اُمید ختم کرلیتا ہے اور صبر و رضا پر ثابت قدم نہیں رہتا اور گزشتہ نعمت کی ناشکری کرتا ہے۔ (2)
وَلَئِنْ اَذَقْنٰہُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْہُ لَیَقُوۡلَنَّ ذَہَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیۡ ؕ اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴿ۙ۱۰﴾

ترجمۂکنزالایمان: اور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اس مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۹، ۶/۳۲۱-۳۲۲۔
2…مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۹، ص۴۹۱، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۹، ۲/۳۴۲، ملتقطاً۔