آزمایا اور اُن کا امتحان لیا جا رہاہے کہ وہ ان نعمتوں کے ملنے پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری اور اس کی شکر گزاری کرتے ہیں یا غفلت کا شکار ہو کر اس کی نافرمانی و ناشکری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، اب ہر عقلمند انسان اپنی حالت پر خود ہی غور کر لے کہ وہ اس آزمائش و امتحان میں کس حد تک کامیاب ہوا ہے۔ حضرت حاتم اَصَم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جب تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرو اور صبح اس حال میں کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے اوپر فراوانی کے ساتھ دیکھو تو اس سے بچو کیونکہ یہ آہستہ آہستہ عذاب کی طرف جانا ہے۔ (1)
{ وَلَئِنۡ قُلْتَ:اور اگر تم کہو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اگر آپ اپنی قوم کے کفار سے فرمائیں کہ اے لوگو! تمہیں مرنے کے بعد حساب اور جزاء کیلئے اٹھایا جائے گا تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ قرآن شریف جس میں مرنے کے بعد اُٹھائے جانے کا بیان ہے یہتو کھلا جادو یعنی باطل اور دھوکا ہے۔ (2)
وَلَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤی اُمَّۃٍ مَّعْدُوۡدَۃٍ لَّیَقُوۡلُنَّ مَا یَحْبِسُہٗ ؕ اَلَا یَوْمَ یاۡتِیۡہِمْ لَیۡسَ مَصْرُوْفًا عَنْہُمْ وَحَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسْتَہۡزِءُوۡنَ ٪﴿۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر ہم ان سے عذاب کچھ گنتی کی مدت تک ہٹادیں تو ضرور کہیں گے کس چیز نے اسے روکا ہے سن لو جس دن ان پر آئے گا ان سے پھیرا نہ جائے گااور انہیں گھیرلے گا وہی عذاب جس کی ہنسی اڑاتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر ہم ان سے کچھ گنتی کی مدت تک کے لئے عذاب میں دیر کردیں تو ضرور کہیں گے : کس چیز نے روکا ہوا ہے؟ خبردار! جس دن وہ عذاب ان پر آئے گا تو ان سے پھیرا نہیں جائے گا اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہی ان کو گھیرے ہوئے ہوگا۔
{وَلَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤی اُمَّۃٍ مَّعْدُوۡدَۃٍ:اور اگر ہم ان سے کچھ گنتی کی مدت تک کے لئے عذاب میں دیر کر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تنبیہ المغترین، الباب الاوّل من اخلاق السلف الصالح، ومن اخلاقہم رضی اللہ عنہم کثرۃ خوفہم من اللہ تعالی فی حال بدایتہم۔۔۔ الخ، ص۴۹۔
2…مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ص۴۹۰، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ۲/۳۴۲، ملتقطاً۔