Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
398 - 576
بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوۡلَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا کہ تمہیں آزمائے تم میں کس کا کام اچھا ہے اور اگر تم فرماؤ کہ بے شک تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ تو نہیں مگر کھلا جادو۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا (تمہیں پیدا کیا ) تا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے اور اگر تم کہو: (اے لوگو!) تمہیں مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ (قرآن) تو کھلا جادو ہے۔ 
{ وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ:اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا۔} آسمان بھی سات ہیں اور زمین بھی سات، لیکن آسمانو ں کی حقیقتیں مختلف ہیں ، جیسے کوئی لوہے کا،کوئی تانبے کا، کوئی چاندی کا اور کوئی سونے کا ہے اور تمام زمینوں کی حقیقت صرف مٹی ہے، نیز آسمانوں میں فاصلہ ہے اور زمین کے طبقات میں فاصلہ نہیں ، یہ ایک دوسرے سے ایسی چمٹی ہیں جیسے پیاز کے چھلکے کہ دیکھنے میں ایک معلوم ہوتی ہے، اس لئے آسمان جمع فرمایا جاتا ہے اور زمین واحد بولی جاتی ہے۔ خیال رہے کہ آسمانوں کی پیدائش دو دن میں ، زمین کی پیدائش دو دن میں اور حیوانات، درخت وغیرہ کی پیدائش دو دن میں ہوئی اور دن سے مراد اتنا وقت ہے، ورنہ اس وقت دن نہ تھا کیونکہ دن تو سورج سے ہوتا ہے اور اس وقت سورج نہ تھا۔  (1) قرآنِ پاک کی متعدد آیات میں آسمان و زمین کو چھ دن میں بنانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ مفسرین نے یہ بھی فرمایا ہے کہ چھ دنوں سے مراد چھ اَدوار ہیں۔
{ وَّکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ:اور اس کا عرش پانی پر تھا۔} یعنی عرش کے نیچے پانی کے سوا اور کوئی مخلوق نہ تھی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عرش اور پانی آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش سے پہلے پیدا فرمائے گئے۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ۴/۹۷-۹۸، ملخصاً۔
2…مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ص۴۹۰۔