اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو کافی ہے اور ان مسلمانوں کو بھی کافی ہے جنہوں نے آپ ک پیروی کی۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اللہ آپ کو کافی ہے اور آپ کی پیروی کرنے والے مسلمان آپ کو کافی ہیں۔ (1)
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیۡنَ عَلَی الْقِتَالِ ؕ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمْ عِشْرُوۡنَ صٰبِرُوۡنَ یَغْلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ یَّغْلِبُوۡۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّایَفْقَہُوۡنَ ﴿۶۵﴾ اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللہُ عَنۡکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیۡکُمْ ضَعْفًا ؕ فَاِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوۡۤا اَلْفَیۡنِ بِاِذْنِ اللہِ ؕ وَاللہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۶۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے غیب کی خبریں بتانے والے مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں کے بیس صبر والے ہوں گے دو سو پر غالب ہوں گے اور اگر تم میں کے سو ہوں تو کافروں کے ہزا ر پر غالب آئیں گے اس لیے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے۔ اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمادی اور اسے معلوم ہے کہ تم کمزو ر ہو تو اگر تم میں سو صبر والے ہوں د و سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں کے ہزار ہوں تو دو ہزار پر غالب ہوں گے اللہ کے حکم سے اوراللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو، اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے سو ہوں گے تو ہزار کافروں پر غالب آئیں گے کیونکہ کافر سمجھ نہیں رکھتے۔اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمادی اور اسے علم ہے کہ تم کمزو ر ہو تو اگر تم میں سو صبر کرنے والے ہوں تود و سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ہزار ہوں تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب ہوں گے اوراللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
{ یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ:اے نبی!۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ اور بشارت ہے کہ مسلمانوں کی جماعت صابر رہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۴، ۵/۵۰۳، خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۴، ۲/۲۰۷-۲۰۸، ملتقطاً.