Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
383 - 576
 انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں۔ پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے۔ہم پر اسی طرح حق ہے کہ ایمان والوں کو نجات دیں۔ 
{فَہَلْ یَنۡتَظِرُوۡنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیۡنَ خَلَوْا مِنۡ قَبْلِہِمْ:تو انہیں ان لوگوں کے دنوں جیسے (دنوں ) کا انتظار ہے جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔} آیت کا معنی یہ ہے کہ ان لوگوں کا طرزِ عمل یہ بتاتا ہے کہ گویایہ لوگ گزشتہ اُمتوں کے دنوں جیسے دنوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ گزشتہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے زمانوں میں کفار کو اُن دنوں کے آنے سے ڈراتے تھے جن میں مختلف قسم کے عذاب نازل ہوں جبکہ کفار اسے جھٹلاتے اور مذاق اڑاتے ہوئے عذاب نازل ہونے کی جلدی مچاتے تھے اسی طرح نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے زمانے کے کفار بھی انہی کی رَوِش اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے فرمایا : آپ ان سے فرما دیں کہ تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں۔ (1)
{ثُمَّ نُنَجِّیۡ رُسُلَنَا وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا:پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے۔} حضرت ربیع بن انس  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ عذاب کا خوف دلانے کے بعد اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ جب عذاب واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ رسول کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرماتا ہے۔ (2)
قُلْ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡ دِیۡنِیۡ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیۡنَ تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ وَلٰکِنْ اَعْبُدُ اللہَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمْ ۚۖ وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوۡنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾ۙ وَ اَنْ اَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ۚ وَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ اے لوگو اگر تم میرے دین کی طرف سے کسی شبہہ میں ہو تو میں تو اسے نہ پوجوں گا جسے تم 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۶/۳۰۷۔
2…تفسیر طبری، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۶/۶۱۷۔