Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
367 - 576
سے بڑھ جائے تو شیطان بن جاتاہے۔
وَقَالَ مُوۡسٰی یٰقَوْمِ اِنۡ کُنۡتُمْ اٰمَنۡتُمۡ بِاللہِ فَعَلَیۡہِ تَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّسْلِمِیۡنَ ﴿۸۴﴾ فَقَالُوۡا عَلَی اللہِ تَوَکَّلْنَا ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۸۵﴾ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِکَ مِنَ الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۶﴾
 ترجمۂکنزالایمان: اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے تو اسی پر بھروسہ کرو اگر اسلام رکھتے ہو۔ بولے ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا الٰہی ہم کو ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔ اور اپنی رحمت فرماکر ہمیں کافروں سے نجات دے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور موسیٰ نے کہا: اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اگر تم مسلمان ہوتو اسی پر بھروسہ کرو۔ انہوں نے کہا: ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔ اور اپنی رحمت فرما کر ہمیں کافروں سے نجات دے۔
{ وَقَالَ مُوۡسٰی:اور موسیٰ نے کہا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی قوم سے فرمایا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہوتو اسی پر بھروسہ کرو ،وہ اپنے فرمانبرداروں کی مدد کرتا اور دشمنوں کو ہلاک فرماتا ہے ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ کرنا کمالِ ایمان کا تقاضا ہے۔ (1)
{ فَقَالُوۡا:انہوں نے کہا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے جواب دیتے ہوئے عرض کی: ہم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی پر بھروسہ کیا اس کے علاوہ کسی اور پر بھروسہ نہیں کرتے، پھر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے دعا کرتے ہوئے عرض گزار ہوئے ’’ اے ہمارے رب!عَزَّوَجَلَّ، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا یعنی انہیں ہم پر غالب نہ کر اور ان کے گناہوں کی وجہ سے ہمیں ہلاک نہ فرماتا کہ وہ یہ گمان نہ کریں کہ وہ حق پر ہیں اور یوں سرکشی و کفر میں بڑھ جائیں اور اپنی رحمت فرما کر ہمیں قومِ فرعون کے کافروں کے قبضے سے نجات دے اور ان کے ظلم و ستم سے بچا۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۸۴، ۲/۳۲۸۔
2…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۸۵، ۲/۳۲۸