دونوں ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت ہیں اور نعمتوں کی اہمیت کا صحیح اندازہ ان ممالک میں رہنے سے ہو سکتا ہے جہاں کئی کئی مہینے دن یا کئی کئی مہینے رات رہتی ہے ۔
قَالُوا اتَّخَذَ اللہُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ ؕ ہُوَ الْغَنِیُّ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ ؕ اِنْ عِنۡدَکُمۡ مِّنۡ سُلْطٰنٍۭ بِہٰذَا ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللہِ مَا لَاتَعْلَمُوۡنَ ﴿۶۸﴾ قُلْ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَایُفْلِحُوۡنَ ﴿ؕ۶۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولے اللہ نے اپنے لیے اولاد بنائی پاکی اس کو وہی بے نیاز ہے اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں تمہارے پاس اس کی کوئی بھی سند نہیں کیا اللہ پر وہ بات بتاتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔ تم فرماؤ وہ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (کافروں نے )کہا: اللہ نے اپنے لیے اولاد بنا رکھی ہے۔ وہ پاک ہے، وہی بے نیاز ہے، جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ تمہارے پاس اس کی کوئی بھی دلیل نہیں ، کیا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔ تم فرماؤ: بیشک اللہ پر جھوٹ باندھنے والے فلاح نہیں پائیں گے۔
{ قَالُوا اتَّخَذَ اللہُ وَلَدًا:(کافروں نے )کہا: اللہ نے اپنے لیے اولاد بنارکھی ہے ۔} کفار کا یہ کلمہ نہایت قبیح اور اِنتہا درجہ کے جہل کا حامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مشرکین کے اس قول کے تین رد فرمائے ہیں ،
پہلا رد تو کلمہ ’’ سُبْحٰنَہٗ ‘‘ میں ہے جس میں بتایا گیا کہ اس کی ذات اولاد سے منزہ و پاک ہے کہ وہ واحدِ حقیقی ہے۔
دوسرا رد ’’ ہُوَ الْغَنِیُّ ‘‘ فرمانے میں ہے کہ وہ تمام مخلوق سے بے نیاز ہے تو اولاد اس کے لئے کیسے ہوسکتی ہے؟ اولاد تو یا کمزور چاہتا ہے جو اس سے قوت حاصل کرے یا فقیر چاہتا ہے جوا س سے مدد لے یا کم عزت چاہتا ہے جو اس کے ذریعے سے عزت حاصل کرے ، الغرض جو چاہتا ہے وہ حاجت رکھتا ہے تو جو غنی ہو، بے نیاز ہو، کسی کا محتاج نہ ہو اس کے لئے اولاد کس طرح ہوسکتی ہے۔