(5)…رِجال ا لغیب ۔ اَہلُ اللہ کی اِصطلاح میں یہ وہ لوگ ہیں جو رب کی بارگاہ میں انتہائی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور تجلیات ِ رحمن کے غلبے کے سبب آہستہ آواز کے سوا کچھ کلام نہیں کرتے، ہمیشہ اسی حال میں رہتے ہیں ، چھپے ہوئے ہوتے ہیں پہچانے نہیں جاتے، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے مُناجات نہیں کرتے اور اس کے سوا کسی کے مشاہدے میں مشغول نہیں ہوتے۔ بعض اوقات اس سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں کہ جو انسانی نگاہوں سے پوشیدہ ہوں اور کبھی اس کا اِطلاق نیک اور مومن جنات پر ہوتا ہے ۔ بعض اوقات ان سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو ظاہری حواس سے علم اور رزق وغیرہ نہیں لیتے انہیں غیب سے یہ چیزیں عطا ہوتی ہیں۔ (1)
{ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا:وہ جو ایمان لائے ۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ولی کی دو صِفات بیان فرمائی ہیں :
(1)…ولی وہ ہے جو ایمان کے ساتھ مُتَّصِف ہو۔ ایمان کا معنی ہے وہ صحیح اعتقاد جو قَطعی دلائل پر مبنی ہو۔
(2)… ولی کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ متقی ہو۔ تقویٰ کا معنی یہ ہے کہ جن کاموں کو کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا انہیں کرنا اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے اِجتناب کرنا۔ (2) اوراس کے ساتھ ساتھ ہر اس کام کیلئے کوشش کرنا جس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا ہو اور ہر اُس کام سے بچنا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دور کرنے والا ہو۔
لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ لَا تَبْدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیۡمُ ﴿ؕ۶۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کے لئے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے ، اللہ کی باتیں بدلتی نہیں ،یہی بڑی کامیابی ہے۔
{ لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا:ان کے لئے دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے۔} اس خوش خبری سے یا تو وہ مراد ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جامع کرامات اولیائ، القسم الاول فی ذکر مراتب الولایۃ۔۔۔ الخ، ۱/۶۹، ۷۴۔
2…صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۶۳، ۳/۸۸۰۔