وَّحَلٰلًا ؕ قُلْ آٰللہُ اَذِنَ لَکُمْ اَمْ عَلَی اللہِ تَفْتَرُوۡنَ ﴿۵۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے تمہارے لیے رزق اتارا اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرالیا تم فرماؤ کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:تم فرماؤ :بھلا بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق اتاراہے تو تم نے اس میں سے خود ہی حرام اور حلال بنالیا، تم فرماؤ: کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو؟
{ قُلْ:تم فرماؤ۔} کفارِ عرب چونکہ بحیرہ، سائبہ اور وصیلہ وغیرہ بتوں پر چھوڑے ہوئے جانوروں کو حرام سمجھتے تھے، ان پر عتاب فرمانے کے لئے یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ (1) کہ یہ جانور حلال ہیں انہیں حرام جاننا اللہ عَزَّوَجَلَّ پر بہتان باندھنا ہے۔
اپنی طرف سے حلال کو حرام سمجھنا اللہ تعالیٰ پر اِفتراء ہے:
اس آیت سے ثابت ہوا کہ کسی چیز کو اپنی طرف سے حلال یا حرام سمجھنا ممنوع اور اللہ تعالیٰ پر اِفترا ء ہے۔ آج کل بہت سے لوگ اس میں مبتلا ہیں ، ممنوعات کو حلال کہتے ہیں اور مُباحات کو حرام۔ بعض سود کو حلال کہنے پر مُصِر ہیں اور بعض عورتوں کی بے قیدیوں اور بے پردگیوں کو مُباح سمجھتے ہیں اور حلال ٹھہراتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے پر مُصِر ہیں جیسے محفلِ میلاد، فاتحہ ،گیارہویں اور ایصالِ ثواب کے دیگر طریقوں کو حرام کہنے والے ۔ یہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّپر اِفتراء باندھنے کی صورتیں ہیں۔
وَمَا ظَنُّ الَّذِیۡنَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللہَ لَذُوۡ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَشْکُرُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور کیا گمان ہے ان کا جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہوگا بیشک اللہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر ابن کثیر، یونس، تحت الآیۃ: ۵۹، ۴/۲۳۹۔