میں اِمتیاز کر لیتے ہیں۔ مزید فرماتے ہیں ’’اس آیت میں شریعت ، طریقت اور حقیقت تینوں کی طرف اشارہ ہے۔ شریعت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے’’ مَوْعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ ‘‘ میں ہے، کیونکہ شریعت سے ظاہری طہارت حاصل ہوتی ہے اور طریقت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے’’ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ‘‘ میں ہے کیونکہ طریقت باطن کو ہر نا مناسب چیز سے پاک کرتی ہے۔ جبکہ حقیقت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے ’’ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ‘‘ میں ہے کیونکہ حقیقت ہی کے ذریعے دلوں میں ان اَنوار کی تجلیات پھیلتی ہیں جن کے ذریعے چیزیں اپنی حقیقت کے مطابق نظر آتی ہیں۔ جب دلوں میں ان انوار کی تجلیات آ جائیں تو پھر ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے اور ہر چیز علمِ ذوقی کے اعتبار سے اس کے قریب ہو جاتی ہے،خلاصہ یہ ہے کہ حقیقت طریقت کا ثمرہ ہے اور حقیقت، طریقت اور شریعت کو مضبوطی سے تھامنے کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے ،اسی لئے کہا گیا ہے کہ حقیقت شریعت کے بغیر باطل ہے اور شریعت حقیقت کے بغیربیکار ہے۔ (1)
قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوۡنَ ﴿۵۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے ، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
{ قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا:تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔} کسی پیاری اور محبوب چیز کے پانے سے دل کو جو لذت حاصل ہوتی ہے اس کو ’’فَرح ‘‘کہتے ہیں ،اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ ایمان والوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و رحمت پر خوش ہونا چاہئے کہ اس نے انہیں نصیحتیں ، سینوں کی شفاء اور ایمان کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۵۷، ۳/۸۷۶-۸۷۷۔