Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
311 - 576
لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ ؕ وَلَایَرْہَقُ وُجُوۡہَہُمْ قَتَرٌ وَّلَاذِلَّۃٌ ؕ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۶﴾ 
ترجمۂکنزالایمان:بھلائی والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد اور ان کے منھ پر نہ چڑھے گی سیاہی اور نہ خواری وہی جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: بھلائی کرنے والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زیادہ ہے اور ان کے منہ پر نہ سیاہی چھائی ہوگی اور نہ ذلت۔یہی جنت والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
{ لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ:بھلائی کرنے والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زیادہ۔} بھلائی والوں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمانبردار بندے مومنین مراد ہیں اور یہ جو فرمایا کہ ان کے لئے بھلائی ہے، اس بھلائی سے جنت مراد ہے اور اس پر زیادت سے مراد دیدارِ الٰہی ہے۔ (1)
	اَحادیث سے بھی ثابت ہے کہ اس آیت میں زیادت سے مراد دیدارِ الٰہی ہے ،چنانچہ حضرت صہیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا :کیا تم چاہتے ہو کہ تم پر اور زیادہ عنایت کروں۔ وہ عرض کریں گے: یارب! عَزَّوَجَلَّ، کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کئے، کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا ، کیا تو نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: پھر پردہ اٹھادیا جائے گا تودیدارِ الٰہی انہیں ہر نعمت سے زیادہ پیارا ہوگا۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ’’ لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ ‘‘ (2)
	 یہی روایت الفاظ کی کچھ تبدیلی کے ساتھ ترمذی ،نسائی اور ابن ماجہ میں بھی موجود ہے، صحیح بخاری میں ہے ’’امام 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۴۷۰۔
2…مسلم، کتاب الایمان، باب فی قولہ علیہ السلام: انّ اللہ لا ینام۔۔۔ الخ، ص۱۱۰، الحدیث: ۲۹۷-۲۹۸(۱۸۱)۔