فرمایا ’’ مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے، جو کسی مسلمان کا عہد توڑے تو اس پر اللہ تعالیٰ ،فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، نہ ا س کی کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گی اور نہ نفل۔ (1)
اللہ تعالیٰ ہمیں عہد کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
فَاِمَّا تَثْقَفَنَّہُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِہِمۡ مَّنْ خَلْفَہُمْ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۵۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو اگر تم کہیں انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسا قتل کرو جس سے ان کے پس ماندوں کو بھگاؤ اس امید پر کہ شاید انہیں عبرت ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اگر تم انہیں لڑائی میں پا ؤ تو انہیں ایسی مار مارو جس سے ان کے پیچھے والے (بھی) بھاگ جائیں ، اس امید پر (مارو) کہ شاید انہیں عبرت ہو۔
{ فَاِمَّا تَثْقَفَنَّہُمْ فِی الْحَرْبِ:تو اگر تم انہیں لڑائی میں پاؤ۔} یعنی وہ لوگ جنہوں نے عہد شکنی کی تم اگر انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی مار مارو جس سے ان کے پیچھے والے بھی بھاگ جائیں اور ان کی ہمتیں توڑ دو اور ان کی جماعتیں مُنْتَشِر کردو اور اس امید پرمارو کہ شاید انہیں عبرت ہو۔
سزاؤں کی حکمت:
اس سے معلوم ہوا کہ جنگ میں ہر وہ جائز طریقہ استعمال کرنا درست ہے جو کفار کی ہمت توڑدے۔ سزاؤں کے پیچھے اکثر و بیشتر یہی عوامِل کار فرما ہوتے ہیں کہ دوسروں کو عبرت ہو اور وہ ایسی حرکتیں نہ کریں۔
وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنۡ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانۡۢبِذْ اِلَیۡہِمْ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ اِنَّ اللہَ لَایُحِبُّ الۡخَآئِنِیۡنَ ﴿۵۸﴾٪
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، باب حرم المدینۃ، ۱/۶۱۶، الحدیث: ۱۸۷۰۔