زُخْرُفَہَا وَازَّیَّنَتْ وَظَنَّ اَہۡلُہَاۤ اَنَّہُمْ قٰدِرُوۡنَ عَلَیۡہَاۤ ۙ اَتٰىہَاۤ اَمْرُنَا لَیۡلًا اَوْ نَہَارًا فَجَعَلْنٰہَا حَصِیۡدًا کَاَنۡ لَّمْ تَغْنَ بِالۡاَمْسِؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: دنیا کی زندگی کی کہا وت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں گھنی ہوکر نکلیں جو کچھ آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگار لے لیا اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آگئی ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں تو ہم نے اسے کردیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں ہم یونہی آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:دنیا کی زندگی کی مثال تو اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں گھنی ہو کر نکلیں جن سے انسان اور جانور کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی خوبصورتی پکڑلی اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ (اب) وہ اس فصل پر قادر ہیں تو رات یا دن کے وقت ہمارا حکم آیا تو ہم نے اسے ایسی کٹی ہوئی کھیتی کردیا گویا وہ کل وہاں پر موجود ہی نہ تھی۔ ہم غور کرنے والوں کیلئے اسی طرح تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں۔
{ اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا:دنیا کی زندگی کی مثال۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ’’اے لوگو! تمہاری زیادتی (درحقیقت) صرف تمہارے ہی خلاف ہے ۔ ‘‘ اورا س آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے بارے میں ایک عجیب مثال بیان فرمائی ہے جو دنیا کی لذتوں میں گم ہو کر اپنی آخرت سے بے پر واہ ہو جاتا ہے ۔اس مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ آسمان سے اترنے والے پانی کی وجہ سے زمین کی پیداوار بہت گھنی ہوجاتی ہے کیونکہ جب بارش ہوتی ہے تو اس کے سبب زمین سے رنگ برنگے پھول، خوبصورت بیلیں ،خوش ذائقہ پھل اوران کے علاوہ طرح طرح کی اَجناس پیدا ہوتی ہیں حتّٰی کہ جب باغات اور کھیتوں کا مالک پھلوں سے لدے ہوئے درختوں اور ہری بھری،لہلہاتی فصلوں کو دیکھتا ہے تو