Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
303 - 576
وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً مِّنۡۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْہُمْ اِذَا لَہُمۡ مَّکْرٌ فِیۡۤ اٰیَاتِنَا ؕ قُلِ اللہُ اَسْرَعُ مَکْرًا ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَکْتُبُوۡنَ مَا تَمْکُرُوۡنَ ﴿۲۱﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور جب کہ ہم آدمیوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں کسی تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی جبھی وہ ہماری آیتوں کے ساتھ دانؤں چلتے ہیں تم فرمادو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوجاتی ہے بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکر لکھ رہے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ہم لوگوں کو انہیں تکلیف پہنچنے کے بعد رحمت کا مزہ دیتے ہیں تو اسی وقت ان کا کام ہماری آیتوں کے بارے میں سازش کرنا ہوجاتا ہے ۔ تم فرماؤ: اللہسب سے جلد خفیہ تدبیرفرمانے والا ہے۔بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکروفریب کو لکھ رہے ہیں۔
{ وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً:اور جب ہم (کافر) لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں۔} اس آیت میں کفار کے اس قول ’’اس (نبی) پر ان کے رب کی طرف سے کوئی (خاص قسم کی) نشانی کیوں نہیں اترتی ؟‘‘ کا ایک اور جواب دیا گیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ا ہلِ مکہ پر اللہ تعالیٰ نے قحط مُسلط کیا جس کی مصیبت میں وہ سات برس گرفتار رہے یہاں تک کہ ہلاکت کے قریب پہنچے، پھر اس نے رحم فرمایا، بارش ہوئی، زمینیں سرسبز ہوئیں ، تو اگرچہ اس تکلیف و راحت دونوں میں قدرت کی نشانیاں تھیں اور تکلیف کے بعد راحت بڑی عظیم نعمت تھی اور اس پر شکر لازم تھا مگر انہوں نے اس سے نصیحت حاصل نہ کی اور فساد و کفر کی طرف پلٹ گئے۔ (1)
رحمت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنااورآفت کو منسوب نہ کرنابارگاہِ الٰہی کا ایک ادب ہے:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کا ادب یہ ہے کہ رحمتوں کو اس کی طرف منسوب کیا جائے اور آفات کو اس کی جانب منسوب نہ کیا جائے اور یہی اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا طرزِ عمل ہے ،جیسے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۲۱، ۳/۸۶۱-۸۶۲، خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۲۱، ۲/۳۰۸، ملتقطاً۔