ہوئے۔ حدیث شریف میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے ہیں یا مجوسی بناتے ہیں اور حدیث میں فطرت سے فطرتِ اسلام مراد ہے۔ (1)بظاہر پہلا قول ہی درست ہے۔
{ وَلَوْلَاکَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنۡ رَّبِّکَ:اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی۔} ارشاد فرمایا کہ اگر تیرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی کہ کفار کو مُہلت دی جائے گی اور ہر اُمت کے لئے ایک میعاد مُعَین نہ کردی گئی ہوتی یا اَعمال کی جزاء قیامت تک مُؤخّر نہ فرمائی گئی ہوتی تودنیا میں ہی ان کے درمیان ان کے باہمی اختلافات کا نُزولِ عذاب سے فیصلہ ہوگیا ہوتا۔ (2)
وَیَقُوۡلُوۡنَ لَوْ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیۡبُ لِلہِ فَانْتَظِرُوۡا ۚ اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الْمُنۡتَظِرِیۡنَ ﴿٪۲۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کہتے ہیں ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری تم فرماؤ غیب تو اللہ کے لیے ہے اب راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہا ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کہتے ہیں ، اس نبی پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی ؟ تم فرماؤ: غیب تو صرف اللہ کے لیے ہے، تو تم انتظار کرو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہاہوں۔
{ وَیَقُوۡلُوۡنَ:اور کہتے ہیں۔}اہلِ باطل کا طریقہ ہے کہ جب ان کے خلاف مضبوط دلیل قائم ہوتی ہے اور وہ جواب دینے سے عاجز ہوجاتے ہیں تو اس دلیل کا ذکر اس طرح چھوڑ دیتے ہیں جیسے کہ وہ پیش ہی نہیں ہوئی اور یوں کہتے ہیں کہ دلیل لائو ، تاکہ سننے والے اس مُغالَطہ میں پڑ جائیں کہ ان کے مقابلے میں اب تک کوئی دلیل ہی نہیں قائم کی گئی ۔ اس طرح کفار نے حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے معجزات اور بالخصوص قرآنِ کریم جو کہ عظیم معجزہ ہے اس کی طرف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب الجنائز، باب ما قیل فی اولاد المشرکین، ۱/۴۶۶، الحدیث: ۱۳۸۵، خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲/۳۰۷۔
2…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲/۳۰۷، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۴۶۷، ملتقطاً۔