ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اعمال کئے ان کا رب ان کے ایمان کے سبب ان کی رہنمائی فرمائے گا۔ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ (وہ) نعمتوں کے باغوں میں ہوں گے۔
{ یَہۡدِیۡہِمْ رَبُّہُمْ بِاِیۡمٰنِہِمْ:ان کا رب ان کے ایمان کے سبب ان کی رہنمائی فرمائے گا۔} حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مومن جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل خوب صورت شکل میں اس کے سامنے آئے گا یہ شخص کہے گا تو کون ہے ؟وہ کہے گا :میں تیرا عمل ہوں۔ اور اس کے لئے نور ہوگا اور جنت تک پہنچائے گا اور کافر کا معاملہ برعکس ہوگا کہ اس کا عمل بری شکل میں نمودار ہو کر اسے جہنم میں پہنچائے گا۔ (1)
سُبْحَانَ اللہ، کتنی پیاری فضیلت ہے کہ مومنین کی جنت کی طرف رہنمائی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے ہوگی ۔ وہ جنت میں جائیں گے اور ہمیشہ کیلئے رہیں گے اور ان کے محلات کے نیچے دودھ ، شہد، شرابِ طہور اور خالص پانی کی نہریں جاری ہوں گی۔
دَعْوٰىہُمْ فِیۡہَا سُبْحٰنَکَ اللہُمَّ وَ تَحِیَّتُہُمْ فِیۡہَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىہُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۱۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اللہ تجھے پاکی ہے اور ان کے ملتے وقت خوشی کا پہلا بول سلام ہے اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں سراہا اللہ جو رب ہے سارے جہان کا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اے اللہ ! تو پاک ہے اورجنت میں ان کی ملاقات کا پہلا بول ’’سلام‘‘ ہوگا اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔
{ دَعْوٰىہُمْ فِیۡہَا:ان کی دعا اس میں یہ ہوگی ۔} یعنی اہلِ جنت اللہ تعالیٰ کی تسبیح ، تحمید، تقدیس میں مشغول رہیں گے اور اس کے ذکر سے انہیں فرحت و سُرور اور اِنتہا درجہ کی لذت حاصل ہوگی ۔ سُبْحَانَ اللہ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹، ۲/۳۰۲-۳۰۳۔
2…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰، ۲/۳۰۳۔