بِہَا وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوۡنَ ۙ﴿۷﴾ اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں۔ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے بدلہ ان کی کمائی کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے ہیں اور اس پر مطمئن ہوگئے ہیں اور وہ جو ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔ ان لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کے بدلے میں دوزخ ہے۔
{ اِنَّ الَّذِیۡنَ:بیشک وہ لوگ۔} ان آیات میں پہلے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو حشر یعنی مرنے کے اٹھنے پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے بعد حشر پر ایمان لانے والوں کا ذکر ہے ۔ (1)اس آیت میں حشر پر ایمان نہ لانے والوں کی چار صِفات بیان فرمائی گئی ہیں :
(1)… وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔ مفسرین نے اس آیت میں ’’امید‘‘ کے دومعنی بیان کئے ہیں۔ (۱) خوف۔ اس سورت میں آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو قیامت کے دن ہم سے ملنے کاخوف نہیں رکھتے تو وہ ثواب اور عذاب کو جھٹلا رہے ہیں۔ (۲) طمع۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ دنیا پر مطمئن ہو بیٹھے اور اللہ تعالیٰ کے ثواب کی طمع نہیں رکھتے۔ (2)
(2)… دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے ہیں۔ یعنی انہوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا، اس تھوڑی سی اور فانی کو بہت زیادہ اور باقی رہنے والی پر ترجیح دی۔ (3)
(3)… اس پر مطمئن ہوگئے ہیں۔ کفار کا یہ قلبی اطمینان دنیا اور اس کی لذتوں کی طرف میلان کی وجہ سے ہے، اسی لئے ان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۷، ۶/۲۱۰، ملخصاً ۔
2…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۷، ۲/۳۰۲۔
3…مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۷، ص۴۶۴۔