Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
279 - 576
کے اوصاف کے بیان پر ہوا اور سورۂ یونس کی ابتداء میں رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَپر نازل کی جانے والی وحی پر ہونے والے شکوک و شُبہات کا رد کیا گیا ہے۔ نیز سورۂ توبہ میں زیادہ تر منافقین کے احوال اور قرآنِ پاک کے بارے میں ان کا مَوقف بیان کیاگیا جبکہ سورۂ یونس میں کفار اور مشرکین کے اَحوال اور قرآنِ پاک کے بارے میں ان کے اَقوال بیان کئے گئے ہیں۔ 
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
ترجمۂکنزالایمان:	اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزالعرفان:	اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
الٓرٰ ۟ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیۡمِ ﴿۱﴾
ترجمۂکنزالایمان:	     یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:	     یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔
{ الٓرٰ:} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں سے ہے، اس کی مراد اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ (1)
{ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیۡمِ:یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔} ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں ان آیات کی طرف اشارہ ہے جو اس سورت میں موجود ہیں ، معنی یہ ہیں کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، یہ آیات قرآن ہی کی آیات ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے قرآنِ پاک کی ان آیات کی طرف اشارہ ہے جو اس سورت سے پہلے ذکر ہوئیں اور معنی یہ ہیں کہ وہ آیات حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…جلالین، یونس، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۶۹۔
2…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱، ۲/۲۹۹۔