نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی رحمت سے متعلق دو اَحادیث:
سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی رحمت و رافَت کے متعلق دو اَحادیث ملاحظہ فرمائیں۔
(1)…حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے قرآنِ پاک میں سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اس قول کی تلاوت فرمائی
’’رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنۡ تَبِعَنِیۡ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡ ۚ وَمَنْ عَصَانِیۡ فَاِنَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے میرے رب! بیشک بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا تو جو میرے پیچھے چلے تو بیشک وہ مجھ سے (تعلق رکھنے والا) ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔
اور وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ قول ہے
’’ اِنۡ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی غلبے والا، حکمت والا ہے۔
تو حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر گریہ طاری ہو گیا اور اپنے دست ِاقدس اٹھا کر دعا کی ’’اے اللہ ! عَزَّوَجَلَّ، میری امت ،میری امت۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا ’’ اے جبریل ! عَلَیْہِ السَّلَام، میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں جائو اور ان سے پوچھو حالانکہ تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ خوب جانتا ہے مگر ان سے پوچھو کہ انہیں کیا چیز رُلا رہی ہے ۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامحضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پوچھا تو انہیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے اپنی عرض معروض کی خبر دی ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل سے فرمایا :تم میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے پاس جائو اور ان سے کہو کہ’’اِنَّا سَنُرْضِیْکَ فِیْ اُمَّتِکَ وَلَا نَسُوْئُ کَ‘‘ آپ کی امت کی بخشش کے معاملے میں ہم آپ کو راضی کر دیں گے اور آپ کو غمگین نہ کریں گے ۔ (3)
(2)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ’’میں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے قیامت کے دن اپنی شفاعت کا سوال کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میں کروں گا۔ میں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، میں آپ کو کہاں تلاش کروں ؟ ارشاد فرمایا ’’سب سے پہلے مجھے پل صراط پر تلاش کرنا۔ میں نے عرض کی: اگر پل صراط پر نہ پاؤں (تو کہاں تلاش کروں ) ؟ ارشاد فرمایا: ’’پھر مجھے میزان کے پاس تلاش کر نا۔ میں نے عرض کی: اگر میزان کے پاس نہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابراہیم:۳۶۔ 2…المائدہ:۱۱۸۔
3…مسلم، کتاب الایمان، باب دعوۃ النبیّ لامّتہ وبکائہ۔۔۔ الخ، ص۱۳۰، الحدیث: ۳۴۶(۲۰۲)۔