رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ ‘‘الآیہ۔ اورا س کے بعد مجھ پر درود پڑھتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ یہ ہر فرض کے بعد یہ دو آیتیں پڑھتا ہے اس کے بعدمجھ پر درود پڑھتا ہے اور تین مرتبہ اس طرح پڑھتا ہے’’صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدْ‘‘۔(1)
{ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ:جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے۔} یعنی تمہارا مشقت میں پڑنا ان پر بہت بھاری گزرتا ہے اور مشقتوں کو دور کرنے میں سب سے اہم اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مشقت کو دور کرنا ہے اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اسی مشقت کو دور کر نے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ اور فرمایا ’’ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ‘‘ یعنی وہ دنیا و آخرت میں تمہیں بھلائیاں پہنچانے پر حریص ہیں۔ (2)
امت کی بھلائی پر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے حرص کی جھلک:
اس سے معلوم ہوا کہ اور لوگ تو اپنی اور اپنی اولاد کی بھلائی کے حریص ہوتے ہیں مگر یہ رسولِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اپنی امت کی بھلائی اور ان کی خیر خواہی پر حریص ہیں۔اب اُمت پر ان کی حرص اور شفقت کی جھلک ملاحظہ ہو
حضرت زید بن خالد جُہنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے بعد مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر کر دیتا۔ (3)
مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے خطبہ میں حج فرض ہونے کا بیان فرمایا ۔اس پر ایک شخص نے کہا، کیا ہر سال فرض ہے؟ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے سکوت فرمایا۔ سائل نے سوال کی تکرار کی تو ارشاد فرمایا کہ’’ جو میں بیان نہ کروں اس کے درپے نہ ہو، اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا اور تم نہ کرسکتے۔ (4)
صحیح مسلم میں ہی حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے حضور پُرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلاء الافہام، الباب الرابع فی مواطن الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ الخ، فصل الموطن الرابع والثلاثون۔۔۔ الخ، ص۲۴۱۔
2…تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ۶/۱۷۸۔
3…ترمذی، ابواب الطہارۃ، باب ما جاء فی السواک، ۱/۱۰۰، الحدیث: ۲۳۔
4…مسلم، کتاب الحج، باب فرض الحجّ مرّۃ فی العمر، ص۶۹۸، الحدیث: ۴۱۲(۱۳۳۷)۔