Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
268 - 576
{ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِیۡنَ:اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔}اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کا جہاد اور کفار کو قتل کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کی وجہ سے ہو نہ کہ مال و دولت یا منصب ومرتبے کے حصول کی غرض سے ہو۔(1) 
وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتْ سُوۡرَۃٌ فَمِنْہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ اَیُّکُمْ زَادَتْہُ ہٰذِہٖۤ اِیۡمٰنًا ۚ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَزَادَتْہُمْ اِیۡمٰنًا وَّہُمْ یَسْتَبْشِرُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان میں کوئی کہنے لگتا ہے کہ اس نے تم میں کس کے ایمان کو ترقی دی تو وہ جو ایمان والے ہیں ان کے ایمان کو اس نے ترقی دی اور وہ خوشیاں منارہے ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان (منافقین) میں سے کوئی کہنے لگتا ہے کہ اس سورت نے تم میں کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے؟ تو جو ایمان والے ہیں ان کے ایمان میں تو اس نے اضافہ کیا اور وہ خوشیاں منارہے ہیں۔ 
{ وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتْ سُوۡرَۃٌ:اور جب کوئی سورت اترتی ہے۔} یعنی جب قرآنِ پاک کی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو منافقین آپس میں مذاق اڑانے کے طور پرکہتے ہیں ’’ اس سورت نے تم میں کس کے ایمان یعنی تصدیق ا ور یقین میں اضافہ کیا ہے؟ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جو ایمان والے ہیں ان کی تصدیق، یقین اور اللہ تعالیٰ سے قربت میں اس نے اضافہ کیا اور جب قرآن میں سے ایک کے بعد کوئی دوسری چیز اترتی ہے تو مومنین خوشیاں مناتے ہیں کیونکہ اس طرح ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے آخرت میں ان کا ثواب اور زیادہ ہو جاتا ہے۔ (2)
	اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کا مذاق اڑانا منافقین کا کام ہے لہٰذا جو قرآن کی ایک آیت کا بھی مذاق اڑائے وہ کافر ہے۔ 
وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ فَزَادَتْہُمْ رِجْسًا اِلٰی رِجْسِہِمْ وَمَاتُوۡا وَہُمْ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۲۵﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیر کبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۶/۱۷۴۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۴، ۲/۲۹۷۔