Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
265 - 576
 طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَلِیُنۡذِرُوۡا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے  ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکل جائیں تو ان میں ہر گروہ میں سے ایک ایک جماعت کیوں نہیں نکل جاتی تاکہ وہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کریں اورجب اِن کی طرف واپس آئیں تووہ اِنہیں ڈرائیں تاکہ یہ ڈر جائیں۔
{ وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوۡنَ:اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا۔} یعنی علم حاصل کرنے کے لئے سب مسلمانوں کا اپنے وطن سے نکل جانا درست نہیں کہ اس طرح شدید حَرج ہوگا توجب سارے نہیں جاسکتے تو ہر بڑی جماعت سے ایک چھوٹی جماعت جس کا نکلنا انہیں کافی ہو کیوں نہیں نکل جاتی تاکہ وہ دین میں فقاہت حاصل کریں اورا س کے حصول میں مشقتیں جھیلیں اور اس سے ان کا مقصود واپس آ کر اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کرنا ہو تاکہ ان کی قوم کے لوگ اس چیز سے بچیں جس سے بچنا انہیں ضروری ہے۔ (1)
	حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ قبائلِ عرب میں سے ہر ہر قبیلہ سے جماعتیں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوتیں اور وہ حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے دین کے مسائل سیکھتے اور فقاہت حاصل کرتے اور اپنے لئے اور اپنی قوم کے لئے احکام دریافت کرتے۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی فرماں برداری کا حکم دیتے اور نماز زکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم کے لئے انہیں اُن کی قوم پر مامور فرماتے۔ جب وہ لوگ اپنی قوم میں پہنچتے تو اعلان کردیتے کہ جو اسلام لائے وہ ہم میں سے ہے اور لوگوں کو خدا عَزَّوَجَلَّ کا خوف دلاتے اور دین کی مخالفت سے ڈراتے ۔ (2)یہ رسول کریم صَلَّی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۲، ص۴۵۹۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۲، ۲/۲۹۵۔