Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
245 - 576
	  شانِ نزول: جب انصار نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے شبِ عَقبہ، بیعت کی تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی کہ یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے لئے اور اپنے لئے کچھ شرط فرما لیجئے جو آپ چاہیں۔ ارشاد فرمایا ’’ میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے لئے تو یہ شرط کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائو اور اپنے لئے یہ کہ جن چیزوں سے تم اپنے جان و مال کو بچاتے اور محفوظ رکھتے ہو اس کو میرے لئے بھی گوارا نہ کرو۔ انہوں نے عرض کیا کہ’’ ہم ایسا کریں تو ہمیں کیا ملے گا ؟ ارشاد فرمایا ’’ جنت۔(1) 
{ وَعْدًا عَلَیۡہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ وَ الْقُرۡاٰنِ:یہ اس کے ذمۂ کرم پر سچا وعدہ ہے توریت اور انجیل اور قرآن میں۔} یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں سے جو وعدہ فرمایا ہے وہ جس طرح قرآن میں موجود ہے اسی طرح تورات اور انجیل میں بھی تھا۔ (2)
انجیل میں بھی مجاہدین کی جزاء کا بیان ہے:
	 عیسائی شور مچاتے ہیں کہ ہماری کتابوں میں تو ایسا کوئی وعدہ نہیں ہے، یہ ان کی انجیل سے بھی جہالت کی علامت ہے کہ اولاً تو آج کی انجیل تحریف شدہ ہے ۔ اب اگر ایسی آیت نہ بھی ہو تو کیا اعتراض کہ جب قرآن نے یہ فرمایا تھا اس وقت یقینا موجود تھی ورنہ اس وقت بھی نجران وغیرہ بلکہ خود مدینہ طیبہ کے قرب و جوار میں عیسائی موجود تھے اور قرآن کی آیت پر اعتراضات کی بوچھاڑ کردیتے اور ثانیاً یہ کہ آج کی انجیل میں بغور دیکھیں تو اس مفہوم کی آیات موجود ہیں۔ 
{وَمَنْ اَوْفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللہِ:اور اللہ سے زیادہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا کون ہے؟} کیونکہ وعدہ خلافی کرنا معیوب ہے،ہم میں سے کوئی سخی وعدہ خلافی نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ جوکہ سب سے بڑا کریم ہے وہ اپنے وعدے کے خلاف کیسے کر سکتا ہے۔ جہاد سے متعلق یہ سب سے بہترین ترغیب ہے۔(3)
{ فَاسْتَبْشِرُوۡا:خوشیاں مناؤ ۔} یعنی تم بے حد خوشیاں مناؤ کیونکہ تم نے فنا ہو جانے والی چیزکو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز کے بدلے میں بیچ دیا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ (4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ۲/۲۸۴۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ۲/۲۸۴۔
3…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ص۴۵۶۔
4…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ص۴۵۶۔