Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
241 - 576
ہے کہ ہر وہ چیز جس سے انسان نفرت و حقارت محسوس کرے اس سے بچا جائے خصوصاً حُکّام اور علماء کو ان چیزوں سے بچنا چاہئے ۔ (1)
	 حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ’’ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہمارے یہاں تشریف لائے، ایک شخص کو پَراگندہ سر دیکھا، جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں ، فرمایا: ’’کیا اس کو ایسی چیز نہیں ملتی جس سے بالوں کو اکٹھا کرلے اور دوسرے شخص کو میلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا: کیا اسے ایسی چیز نہیں ملتی، جس سے کپڑے دھولے۔ (2)
	حضرت عطاء بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ ایک شخص آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے، حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اس کی طرف اشارہ کیا، گویا بالوں کے درست کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ وہ شخص درست کرکے واپس آیا تو نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ کوئی شخص بالوں کو اس طرح بکھیر کر آتا ہے گویا وہ شیطان ہے۔ (3)
	 حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّطیِّب ہے۔ طِیْب یعنی خوشبو کو دوست رکھتا ہے، ستھرا ہے ستھرائی کو دوست رکھتا ہے، کریم ہے کرم کو دوست رکھتا ہے، جواد ہے جودو سخاوت کو دوست رکھتا ہے۔ لہٰذا اپنے صحن کو ستھرا رکھو، یہودیوں کے ساتھ مشابہت نہ کرو۔ (4)
	 اسلا م میں صفائی کی اہمیت کے حوالے سے سرِ دست یہ چند روایتیں ذکر کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیٰنَہٗ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللہِ وَرِضْوٰنٍ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیٰنَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ہَارٍ فَانْہَارَ بِہٖ فِیۡ نَارِجَہَنَّمَ ؕ وَاللہُ لَایَہۡدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۱/۲۴۹، تحت الحدیث: ۲۵۷۔
2…ابوداؤد، کتاب اللباس، باب فی غسل الثوب وفی الخلقان، ۴/۷۲، الحدیث: ۴۰۶۲۔
3…مؤطا امام مالک، کتاب الشعر، باب اصلاح الشعر،  ۲/۴۳۵، الحدیث: ۱۸۱۹۔
4…ترمذی، کتاب الادب، باب ما جاء فی النظافۃ، ۴/۳۶۵، الحدیث: ۲۸۰۸۔