ایمان والوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لئے جھک جائیں )کی تفسیر بیان کررہے تھے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس آیت کی ایسی تشریح کی کہ لوگ رونے لگے،اس دوران ایک جوان مجلس میں کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا: اے مومن بندے! کیا مجھ جیسا فاسق و فاجر بھی اگر توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا ’’ ہاں ، اللہ تعالیٰ تیرے گناہوں کو معاف کردے گا، جب عتبہ نے یہ بات سنی تو ان کا چہرہ زرد پڑگیا اور کانپتے ہوئے چیخ مار کر بے ہوش ہوگئے، جب انہیں ہوش آیا تو حضرتِ حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ان کے قریب آکر یہ شعر پڑھے، جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ’’ اے اللہ تعالیٰ کے نافرمان جوان! تو جانتا ہے کہ نافرمانی کی سزا کیا ہے؟ نافرمانوں کے لئے پُر شور جہنم ہے اور حشر کے دن اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی ہے۔ اگر تو نارِ جہنم پر راضی ہے تو بے شک گناہ کرتا رہ، ورنہ گناہوں سے رک جا۔ تونے اپنے گناہوں کے بدلے اپنی جان کو رہن رکھ دیا ہے، اس کو چھڑانے کی کوشش کر۔
عتبہ نے پھر چیخ ماری اور بے ہوش ہوگئے، جب ہوش آیا تو کہنے لگے اے شیخ! کیا مجھ جیسے بدبخت کی توبہ ربِ رحیم قبول کرلے گا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے کہا: درگزر کرنے والا رب عَزَّوَجَلَّ ظالم بندے کی توبہ قبول فرمالیتا ہے، اس وقت عتبہ نے سراٹھا کر اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں :۔
(1)…اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، اگر تو نے میرے گناہوں کو معاف اور میری توبہ کو قبول کرلیا ہے تو ایسے حافظے اور عقل سے میری عزت افزائی فرما کہ میں قرآنِ مجید اور علومِ دین میں سے جو کچھ بھی سنوں ، اُسے کبھی فراموش نہ کروں۔
(2)…اے اللہ!عَزَّوَجَلَّ، مجھے ایسی آواز عنایت فرماکہ میری قرأت کو سن کر سخت سے سخت دل بھی موم ہوجائے۔
(3)…اے اللہ !عَزَّوَجَلَّ، مجھے رزقِ حلال عطا فرما اور ایسے طریقے سے دے جس کا میں تَصَوُّر بھی نہ کرسکوں۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عتبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تینوں دعائیں قبول کرلیں ، ان کا حافظہ اور فہم و فراست بڑھ گئی اور جب وہ قرآن کی تلاوت کرتے تو ہر سننے والا گناہوں سے تائب ہوجاتا تھا اور ان کے گھر میں ہر روز شوربے کا ایک پیالہ اور دوروٹیاں (رزقِ حلال سے) پہنچ جاتیں ، اور کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کون رکھ جاتا ہے اور حضرت عتبہ غلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ساری زندگی ایسا ہی ہوتا رہا۔(1)
اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مکاشفۃ القلوب، الباب الثامن فی التوبۃ، ص۲۸-۲۹۔
2…سچی توبہ اور اس سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’توبہ کی روایات و حکایات‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ مفید ہے۔