Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
221 - 576
 دیں گے تو انہیں بھی فتح دی جائے گی۔ (1)
	حضرت جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اس مسلمان کو آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا۔ (2)
وَمِمَّنْ حَوْلَکُمۡ مِّنَ الۡاَعْرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ ؕۛ وَمِنْ اَہۡلِ الْمَدِیۡنَۃِ ۟ۛؔ مَرَدُوۡا عَلَی النِّفَاقِ ۟ لَا تَعْلَمُہُمْ ؕ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ ؕ سَنُعَذِّبُہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ ثُمَّ یُرَدُّوۡنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾ۚ 
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہارے آس پاس کے کچھ گنوار منافق ہیں اور کچھ مدینہ والے  ان کی خو ہوگئی ہے نفاق تم انہیں نہیں جانتے ہم انہیں جانتے ہیں جلد ہم انہیں دو بار عذاب کریں گے  پھر بڑے عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارے آس پاس دیہاتیوں میں سے کچھ منافق ہیں اور کچھ مدینہ والے (بھی )وہ منافقت پر اڑگئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ، ہم انہیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر انہیں بڑے عذاب کی طرف پھیرا جائے گا۔
{ وَمِمَّنْ حَوْلَکُمۡ مِّنَ الۡاَعْرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ:اور (اے مسلمانو!) تمہارے آس پاس دیہاتیوں میں سے کچھ منافق ہیں۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مدینے کے منا فقین کے حالات بیان فرمائے، اس کے بعد دیہاتیوں میں جو منافقین تھے ان کا حال بیان فرمایا، پھر بیان فرمایا کہ اکابر مؤمنین وہ ہیں جو مہاجرین اور انصار میں سب سے پہلے ایمان قبول کرنے والے ہیں اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ مدینہ منورہ کی آس پاس کی بستیوں میں بھی منافقین کی ایک جماعت ہے اگرچہ تم ان کے نفاق کو نہیں جانتے۔ (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبیّ صلی اللہ علیہ وسلم، ۲/۵۱۵، الحدیث: ۳۶۳۹۔
2…ترمذی، کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل من رأی النبیّ صلی اللہ علیہ وسلم وصحبہ، ۵/۴۶۱، الحدیث: ۳۸۸۴۔
3…تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۶/۱۳۰۔