پاس بیٹھو ،نہ ان سے کلام کرو۔ مقاتل نے کہا کہ یہ آیت عبداللہ بن اُبی کے بارے میں نازل ہوئی، اس نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے سامنے قسم کھائی تھی کہ اب کبھی وہ جہاد میں جانے سے سستی نہ کرے گا اور سیدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے درخواست کی تھی کہ حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اس سے راضی ہوجائیں ، اس پر یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی۔ (1)
یَحْلِفُوۡنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْہُمْ ۚ فَاِنۡ تَرْضَوْا عَنْہُمْ فَاِنَّ اللہَ لَایَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیۡنَ ﴿۹۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: تمہارے آگے قسمیں کھاتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ تو اگر تم ان سے راضی ہوجاؤ تو بیشک اللہتو فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ تو اگر تم ان سے راضی ہو (بھی) جاؤ تو بیشک اللہ تو نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوگا۔
{ یَحْلِفُوۡنَ لَکُمْ:تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں۔} یعنی اے مسلمانو! منافقین تمہارے سامنے تمہاری رضا حاصل کرنے کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ اس طرح انہیں دنیا میں نفع حاصل ہو، اے ایمان والو! اگر تم ان کی قسموں کا اعتبار اور ان کے عذر قبول کرتے ہوئے ان سے راضی ہو بھی جاؤ تو انہیں کوئی فائدہ نہ ہو گا کیونکہ اللہتعالیٰ اُن کے دل کے کفر و نفاق کو جانتا ہے، وہ ان سے کبھی راضی نہ ہو گا۔ (2)
اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹی قسمیں کھانا منافقین کا کام ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جھوٹی قسمیں کھانے والے فاسق ہیں۔
اَلۡاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوۡا حُدُوۡدَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹۵، ۲/۲۷۳، مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹۵، ص۴۵۰، ملتقطاً۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹۶، ۲/۲۷۳، مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹۶، ص۴۵۰، ملتقطاً۔